MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے

غزل ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے مشکلیں پڑیں گی جب اور مسکرائیں گے پھر بہار آئے گی پھول مسکرائیں گے پھر جنوں کے افسانے ہم کو یاد آئیں گے ظاہری تپاک ان کا دے گیا ہمیں دھوکا یہ سمجھ رہے تھے ہم دل سے دل ملائیں گے آسماں کے سہ پارو تیز […]

ہم غم زمانہ سے یوں نظر ملائیں گے Read More »

وہی جو منزل‌ شمس و قمر میں رہتا ہے

غزل وہی جو منزل‌ شمس و قمر میں رہتا ہے وہ حسن بن کے ہماری نظر میں رہتا ہے نظر کو اپنی چھپائے ہوئے ہوں میں سب سے کہ ایک پردہ نشیں اس نظر میں رہتا ہے تمہاری دید کا ارماں جو گھٹ گیا دل میں وہ بن کے نالہ تلاش اثر میں رہتا ہے

وہی جو منزل‌ شمس و قمر میں رہتا ہے Read More »

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے

غزل کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے کب وحشت دل کا مری سامان نہیں ہے یادوں کو لگائے ہوئے سینے سے گزر جا یہ راہ محبت ہے کچھ آسان نہیں ہے دنیا میں مجھے دولت جاوید ہے حاصل کیا دل میں مرے آپ کا ارمان نہیں ہے اے بادہ کشو ظرف کی کچھ

کب زلف دوتا ان کی پریشان نہیں ہے Read More »

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے

غزل ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے لے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھے منظور ذوق دید کا ہو امتحاں مجھے یہ تاب یہ مجال یہ طاقت کہاں مجھے یا رب قفس کی خیر کہ دیکھا جو خواب بھی آیا ہے بجلیوں میں نظر آشیاں مجھے آزادئ خیال کے وہ

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے Read More »

قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے

غزل قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے وا دل کی آنکھ ہو تو تماشا دکھائی دے تیری نظیر حسن و ادا میں کوئی نہیں مجھ کو بتا دے کوئی جو تجھ سا دکھائی دے اپنی برائیوں پہ اگر جائے گی نظر دنیا میں ہر کوئی ہمیں اچھا دکھائی دے چھانی ہے اس لئے

قطرے میں دریا ذرے میں صحرا دکھائی دے Read More »

ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے

غزل ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے یعنی زندگانی کو معتبر بنایا ہے ہر غم زمانہ کو دل میں دی جگہ ہم نے خوب جو ملا اس کو خوب تر بنایا ہے اینٹ اور پتھر کا گھر نہیں ملا تو کیا دشمنوں کے دل میں بھی ہم نے گھر بنایا ہے

ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے Read More »

جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوں

غزل جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوں ہم الجھنے کے لئے وقت سے تیار تو ہوں خود شناسی تو چلو ٹھہری بہت دور کی بات اپنے کردار سے ہم لوگ خبردار تو ہوں مقصد زیست ذرا تو ہی صدا دے ان کو تجھ سے ہو کے جو الگ ہوتے ہیں بیدار تو ہوں

جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوں Read More »

لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میں

غزل لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میں ہم نے تو رکھی تھی ماتھے کی شکن گٹھری میں آ گیا تھا ہمیں کچھ چاند ستاروں پہ ترس ہم نے تو باندھ ہی لینا تھا گگن گٹھری میں یہ ہنر سیکھ لیں یہ آپ کے کام آئے گا عیب ہاتھوں پہ رکھا کرتے ہیں

لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میں Read More »

بڑے خلوص سے شائستگی سے ملتا ہے

غزل بڑے خلوص سے شائستگی سے ملتا ہے مرا حریف بھی مجھ کو خوشی سے ملتا ہے مجھے وہ ان دنوں زندہ دلی سے ملتا ہے خوشی یہی ہے کہ اب وہ خوشی سے ملتا ہے سکون دل کو تو اب درد ہی سے ملتا ہے یہ لطف وہ ہے جو ہم سائیگی سے ملتا

بڑے خلوص سے شائستگی سے ملتا ہے Read More »

سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دو

غزل سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دو جی نہیں مانتا مگر رکھ دو اشک جی کھول کر بہا لوں میں ہاتھ آنکھوں پہ تم اگر رکھ دو جس میں ماحول ہی نہ ہو گھر کا ایک کونے میں ایسا گھر رکھ دو تم کو رونے کی جب جگہ نہ ملے میرے شانے پہ اپنا

سب صحیفوں کو طاق پر رکھ دو Read More »