غزل
زباں پر آرزو کی بات لانا سخت مشکل ہے
مگر راز محبت کا چھپانا سخت مشکل ہے
یہی آئین الفت ہے یہی ذوق وفا کوشی
اگرچہ زخم کھا کر مسکرانا سخت مشکل ہے
اسی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے ہر قدم اپنا
جدھر اک اک قدم آگے بڑھانا سخت مشکل ہے
ہمیں لے جا رہا ہے اضطراب شوق اس در پر
جہاں سنتے ہیں قسمت آزمانا سخت مشکل ہے
جلائیں گے چراغ آرزو تاریکیٔ غم میں
یہ کچھ آساں نہیں ہے ہم نے مانا سخت مشکل ہے
ترے ہر ناروا جور و ستم کو بھول سکتا ہوں
تری شان کرم کو بھول جانا سخت مشکل ہے
عموماً مسکراتا ہوں جمالیؔ جھوم جاتا ہوں
کہ جس عالم میں اکثر مسکرانا سخت مشکل ہے
بدر جمالی