MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک بے رنگ سے غبار میں ہوں

ایک بے رنگ سے غبار میں ہوںتیری آواز کے حصار میں ہوں بے خزاں ہے تصور ہستیمیں ابھی عالم‌ بہار میں ہوں میرا ہر فعل مجھ سے پوشیدہجانے میں کس کے اختیار میں ہوں ابھی توڑو نہ یہ طلسم‌ وفامیں ابھی پیار کے خمار میں ہوں زندگی تجھ سے کچھ نہیں شکوہاپنے قاتل کے انتظار […]

ایک بے رنگ سے غبار میں ہوں Read More »

گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھے

گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھےکہ سنگ و خشت کی لذت لیے پھرے ہے مجھے نہ کوئی منزل مقصود ہے نہ راہ طلببھٹکتے رہنے کی عادت لیے پھرے ہے مجھے نہ مال و زر کی تمنا نہ زندگی کی ہوسنہ جانے کون سی قوت لیے پھرے ہے مجھے حرم سے دیر تلک دیر

گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھے Read More »

ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہے

ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہےکیا جانئے کیا کچھ ہوتا ہے جب یاد کسی کی آئے ہے جن کوچوں میں سکھ چین گیا جن گلیوں میں بدنام ہوئےدیوانہ دل ان گلیوں میں رہ رہ کر ٹھوکر کھائے ہے ساون کی اندھیری راتوں میں کس شوخ کی یادوں کا آنچلبجلی کی طرح

ہنگامے سے وحشت ہوتی ہے تنہائی میں جی گھبرائے ہے Read More »

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہے

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہےیہ زندگی ہے کہ تنہائیوں کا صحرا ہے بدلتے رہتے ہیں ہر موڑ پر سفر کے رفیقغم حیات مگر ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ شہر درد ہے لوگوں سنبھل سنبھل کے چلوہر ایک ذرہ میں آباد دل کی دنیا ہے بنائے گا یہ نیا آسمان فکر و نظرغبار

نہ کوئی دوست نہ دشمن عجیب دنیا ہے Read More »

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوں

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوںگہر ہوں درد کا اور اشک بن کے رہتا ہوں وہ ایک بچہ ہے حسرت سے دیکھتا ہے مجھےمیں اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا کھلونا ہوں یہ سوچ کر کہ بچھڑنا ہے ایک دن خود سےمیں اپنے آپ سے پہروں لپٹ کے رویا ہوں عجیب

نہ پھول ہوں نہ ستارہ ہوں اور نہ شعلہ ہوں Read More »

شہر شور و شر تنہا گھر کے بام و در تنہا

شہر شور و شر تنہا گھر کے بام و در تنہاتم نہیں تو لگتا ہے عالم بشر تنہا درد آشنا طائر چھیڑ نغمۂ حسرتکیوں خموش بیٹھا ہے غم کی شاخ پر تنہا جب خوشی کا موسم تھا ہم سفر تھا اک عالمکاٹنی ہے اب لیکن غم کی رہ گزر تنہا ہر طرف تری یادیں مسکراتی

شہر شور و شر تنہا گھر کے بام و در تنہا Read More »

زندگی تجھ سے بچھڑ کر میں جیا ایک برس

زندگی تجھ سے بچھڑ کر میں جیا ایک برسزہر تنہائی کا ہنس ہنس کے پیا ایک برس اک اندھیرے کا بھنور تھا مرا ماحول مگرکام اشکوں سے چراغوں کا لیا ایک برس کسی آندھی کسی طوفاں سے بجھائے نہ بجھادل میں جلتا ہی رہا غم کا دیا ایک برس پھر کہیں مجھ کو ملا ہے

زندگی تجھ سے بچھڑ کر میں جیا ایک برس Read More »

اُس دن ،یاد ہے، کتنا تیز چلے تھے ہم

اُس دن ،یاد ہے، کتنا تیز چلے تھے ہماپنے سائے پیچھے چھوڑ گئے تھے ہم جسم ہمارے بیچ میں حائِل لگتے تھےاک دُوجے سے ایسے لپٹ رہے تھے ہم دُنیا و ما فیہا کا کچھ ہوش نہ تھاجیسے دھرتی پر دو ہی بستے تھے ہم لے دے کے یکساں بانٹی تھیں کُل سانسیںگویا ساتھ جیے

اُس دن ،یاد ہے، کتنا تیز چلے تھے ہم Read More »

سنا ہے مسئلہ حل ہوگا تیرگی والا

سنا ہے مسئلہ حل ہوگا تیرگی والاخدا درخت لگائے گا روشنی والا میں تازہ تازہ لطیفہ لئے پھرا دن بھرملا نہیں کوئ چہرہ مجھے ہنسی والا وگرنہ جہل کے زُمرے میں طفلِ مکتب کوسبق پڑھا دیا جاتا ہے آگہی والا لپٹ گئی تھی مجھے راستے میں الّہڑ رُتمسَک گیا تھا مرا چولا بوسکی والا پرانے

سنا ہے مسئلہ حل ہوگا تیرگی والا Read More »

۔۔آخرِ شب۔۔۔

۔۔آخرِ شب۔۔۔ آنجہانی بادشاہوں کے قصیدے ہوچکےکٹ چکی فصلِ ریا فصلِ صفا بھی کٹ چکیپِیر شد لیلائے عنبر مُو تقاضا ختم شدشمعِ بازی گاہِ شب گل شد تماشاختم شد حرف کے ساحر، سرِ محفل، بساطِ شعر پرشاطرانِ کہنہ، کل کےچھوکروں سے پِٹ چکےپیشِ آں خلقے کہ دارد صد زباں در یک دہاں شیر کے مانند

۔۔آخرِ شب۔۔۔ Read More »