MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چاند ویران ہے صدیوں سے مرے دل کی طرح

چاند ویران ہے صدیوں سے مرے دل کی طرح
زندگی غم ہے خلا میں مری منزل کی طرح

کرۂ ارض ہے اک مرکز ہنگامۂ شوق
بحر بے آب میں تہذیب کے ساحل کی طرح

ذرۂ خاک سے ہے شعلۂ جوہر کی نمود
جس نے سورج کو بھی دیکھا ہے مقابل کی طرح

کل کے چنگیز و ہلاکو ہیں پس پردۂ خاک
سرخ رو تھے جو کبھی خنجر قاتل کی طرح

میرے قدموں کے نشاں چاند پہ رخشندہ ہیں
آپ آ جائیے آوارۂ منزل کی طرح

گرہ شام و سحر اہل خرد سے نہ کھلی
زندگی آج بھی ہے عقدۂ مشکل کی طرح

رفعت سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم