MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہونٹوں کو میرے چوم کے ظالم نہ مار دے

ہونٹوں کو میرے چوم کے ظالم نہ مار دے تابش سے کہدو جان کا صدقہ اتار دے یارب ہماری زیست کو ایسا نکھار دے ساون میں جیسے پھول کو بارش بہار دے کب تک ترے دُوار سےلوٹیں گے خالی ہاتھ رحمت کو اپنی بھیج مقدر سنوار دے ہجرت میں ان دنوں ہیں کما حقہُ بیتاب […]

ہونٹوں کو میرے چوم کے ظالم نہ مار دے Read More »

اظہار مت کرو کبھی اقرار مت کرو

اظہار مت کرو کبھی اقرار مت کرو بن دیکھے اپنے یار کو تم پیار مت کرو مرضی ہے گرچہ اس کی تو بالکل نکاح کر جبراٌ کہیں بھی جانے کا اصرار مت کرو راتوں کو لیٹ سو تے ہیں سونے دو سونے دو چائے کے واسطے مجھے بیدار مت کرو سوکھے شجر پہ کوئی پرندہ

اظہار مت کرو کبھی اقرار مت کرو Read More »

تیری صورت ترا لہجہ ترے افکار سے بس

تیری صورت ترا لہجہ ترے افکار سے بس اتنے نزدیک تو آئے ترے کردار سے بس اتنے جذبات میں آکے نہ مجھے پیار کریں لگ بھی جائے نہ نظر پیار کو اس پیار سے بس گھر کی دیوار بھی کرنے لگی کانا پھوسی اک جھلک دیکھ کے توبہ کریں دیدار سے بس رات تکیہ مرا

تیری صورت ترا لہجہ ترے افکار سے بس Read More »

بات کیا دلکش انوکھی ہو گئی

بات کیا دلکش انوکھی ہو گئی ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی مفت میں بدنام ہو کے رہ گئے جس کی ہونی تھی اسی کی ہو گئی اشک سے دامن ہوا جب تر بتر داغ ِدل ہنس کے ندامت دھو گئی تان کے چادر زمیں پر لیٹ جا جس کو جانا تھا وہ

بات کیا دلکش انوکھی ہو گئی Read More »

پھولوں کی طرح خوب نہ کانٹوں کی طرح ہیں

پھولوں کی طرح خوب نہ کانٹوں کی طرح ہیں گلشن میں چمکتے ہوئے غنچوں کی طرح ہیں مت چھیڑ ہمیں ایسے کہ شعلوں کو ہوا دیں جو پیار سے دیکھیں گے گلابوں کی طرح ہیں راتوں کو اگر نیند کے درپن میں سجا لیں آنکھوں میں شبِ وصل کے خوابوں کی طرح ہیں پیمانے یہاں

پھولوں کی طرح خوب نہ کانٹوں کی طرح ہیں Read More »

شعر کی شکل میں الہامِ غضنفر آیا

شعر کی شکل میں الہامِ غضنفر آیا اپنی مٹھی میں تو تابش کے مقدر آیا کھوج میں آب کی ریتوں کو نچوڑا ہم نےپھر یہ دہلیز پہ خود چل کے سمندر آیا اس کے ہمسر کو جو چوپال پہ باندھا سب نے پاؤں پیدل یہاں بستی میں ستمگر آیا اپنے مالک کو زمانے سے بچانے

شعر کی شکل میں الہامِ غضنفر آیا Read More »

کب سے ہیں اس مکان پہ تالے لگے ہوئے

کب سے ہیں اس مکان پہ تالے لگے ہوئے آنگن میں بھی ہیں پیڑ سنہرے لگے ہوئے بے فکر سو رہے ہیں سبھی خواب گاہ میں ہر موڑ پر ہیں امن کے دستے لگے ہوئے دل چاہتا ہے چوم لیں ہم ان کو پیار سے پھولوں کے خوشنما ہیں جو گملے لگے ہوئے سب کچھ

کب سے ہیں اس مکان پہ تالے لگے ہوئے Read More »

ان کی قسمت میں اگر چاند ستارے ہونگے

ان کی قسمت میں اگر چاند ستارے ہونگے بال ہنس ہنس کے فرشتوں نے سنوارے ہونگے آج تفریح کو چلتے ہیں کسی ساحل پر مست منظر جہاں دریا کے کنارے ہونگے حٌور تو حُور فرشتے بھی دعائیں دیں گے کتنے پر کیف وہ جنت کے نظارے ہونگے وقت سب کے کبھی یکساں نہیں رہتے ہیں

ان کی قسمت میں اگر چاند ستارے ہونگے Read More »

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی – Bazm e tanhai mai aks shola pekar tha koi

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئییا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئی قربتوں کے گھاٹ پر سوکھی ندی ثابت ہوافاصلوں کے دشت میں گہرا سمندر تھا کوئی اس کی ساری التجائیں حکم ٹھہرائی گئیںجس گھڑی دیکھا گیا جامے سے باہر تھا کوئی دیوتا ہے اب وہی مندر کے آسن پر جماٹھوکریں کھاتا

بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئی – Bazm e tanhai mai aks shola pekar tha koi Read More »

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی – Dhoond saya na agay bhi

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھیطے جو کرنا ہے سفر آگے بھی یوں ہی شمشیروں کو للکارے گارہ گیا دھڑ پہ جو سر آگے بھی دور تک نام نہیں سائے کاہیں تو پیچھے بھی شجر آگے بھی کیوں ستم گر کو ستم گر بولوزندہ رہنا ہے اگر آگے بھی روکتا کون سفر کس دل سےتھی

ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھی – Dhoond saya na agay bhi Read More »