MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

انتباہ

انتباہ یہ نہ ہو جائے کہ وہ شعلہ اِدھر پھر لپکےجس نے پہلے بھی مرےجسم کوجھلسایا تھایہ نہ ہو جائے کہ وہ تیغ یہاں پھر چمکےجس نے پہلے بھی مجھے خون میں نہلایا تھایہ نہ ہو جاے کہ دشمن مرا للکارے مجھےاور مجھے جوہرِ شمشیر پرَکھنا پڑ جائےبڑھ کے ساغر مرا سبزے پہ اُلَٹ دے […]

انتباہ Read More »

کاش جو جیسا نظر آئے وہ ویسا نکلے

کاش جو جیسا نظر آئے وہ ویسا نکلےمیں جسے اپنا بناؤں میرا اپنا نکلے ایک اک کر کے بہانے سے مجھے چھوڑ گئےمیرے گنتی کے حواری بڑے دانا نکلے کم سے کم آب و ہوا کا ہی بھرم رہ جائےایک پودا ہی بھرے باغ میں سیدھا نکلے دشتِ وحشت کے مسافر کی تسلّی ہو جائےاک

کاش جو جیسا نظر آئے وہ ویسا نکلے Read More »

ایک خواہش

مجھےاس روز تک جینےکی خواہش ہےکہ جب انساںزمیں پر اپنے پہلے دن سے لے کےآج تک کالمحہ لمحہ حسبِ منشااپنی سکرینوں پہ دیکھیں گےبس انگشتِ شہادت سے کلک کر کےبنا نظریں ہٹائےآدم و حوّا کو کار عشق کی تکمیل میں مصروف دیکھیں گےبنا پاؤں بھگوئےنوح کے طوفاں سے گزریں گےبنا نظریں اٹھائےاُمّ ِاسماعیل کی ڈھارس

ایک خواہش Read More »

جس دن سے اک آنے جانے والا روٹھ گیا ہے

جس دن سے اک آنے جانے والا روٹھ گیا ہےمجھ سے میرے شہر کا رستا رستا روٹھ گیا ہے تجھ سے اے کم بولنے والے سب سے دانا انساںتیرا باتیں کرنے والا طوطا روٹھ گیا ہے تیرا عذر قبول ہے, شام کا وعدہ بھولنے والےلیکن تجھ سے شام کا پہلا تارا روٹھ گیا ہے درپن

جس دن سے اک آنے جانے والا روٹھ گیا ہے Read More »

ہیجڑہ

سینہ بَند اپنے لیے مَیں بھی منگانا چاہُوںمجھ کو حالانکہ یہ معلوم بھی ہے سب کی طرحکہ مری چھاتیاں وہ پَھل بھی نہیں جن کے لیےکوئی جنّت بھی لٹا کر نہ پشیماں ٹھہرےغازہ و سُرخی و سُرمہ بھی مجھے چاہیے ہےاپنے رخسار و لَب و چشم سجانے کے لیےمیری زُلفوں کا تقاضا بھی ہے اکثر

ہیجڑہ Read More »

ایک اک آنسو پلکوں کے پہرے میں رکھنا ہے

ایک اک آنسو پلکوں کے پہرے میں رکھنا ہےمیں نے اپنا دکھ اپنے قبضے میں رکھنا ہے طوطے پالنے والے کواتنا معلوم نہ تھاکونسا طوطا لیکر کس پنجرے میں رکھنا ہے بییٹھے رہنا ہے بیری کی چھدری چھاؤں میںاور اک گہری بدلی کو چرچے میں رکھنا ہے میں نے دنیا کو چھوڑا یا دنیا نے

ایک اک آنسو پلکوں کے پہرے میں رکھنا ہے Read More »

مُورکھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مُورکھ مجھے نظروں سے گرانے والےتجھے معلوم بھی ہے یا کہ نہیںتونے جو مٹّی کا بت توڑا ہےکس قدر نادر و نایاب تھا وہوہ مہا وِیر کا بت تھا مُو رکھطاق میں رکھا ہوا مٹّی کا بتجاننے والے جسے جانتے تھےپیار کرتے تھے چرن چُھوتے تھےکیا کہا۔۔وہ تجھے دیتا کیا تھایہ بتا۔۔۔۔۔۔۔وہ تیرا لیتا کیا

مُورکھ Read More »

شعر کہنا پڑا جو روانی کے ساتھ

شعر کہنا پڑا جو روانی کے ساتھ لفظ ڈھلتے گئے پھر کہانی کے ساتھ اب تو بیکار ہے زندہ رہنا یہاں کون جیتا ہے یوں بد گمانی کے ساتھ چربہ کر کے کہاں تک ٹکو گے میاں کچھ حقیقت بھی ہو لن ترانی کے ساتھ پھول چمپا چنبیلی مبارک تمہیں میں تو سونے چلا رات

شعر کہنا پڑا جو روانی کے ساتھ Read More »

میاں گل میں دیکھیں نہ کچھ گلستاں میں

میاں گل میں دیکھیں نہ کچھ گلستاں میں ستاروں کو دیکھیں فقط کہکشاں میں بشر بن کے جب سے زمینوں پہ اترے مرا چاند چمکا ہے تب آسماں میں بہت خوبصورت مجھے لگ رہے ہیں جو ٹھہرے ہیں شب کو مرے سائباں میں کسوٹی پہ ہم کو پرکھنے لگے ہیں کہاں پاس ہونگے عجب امتحاں

میاں گل میں دیکھیں نہ کچھ گلستاں میں Read More »

بدن میں کچھ حرارت ہے ۔نہیں تو

بدن میں کچھ حرارت ہے ۔نہیں تو کہ نزلہ کی شکایت ہے ۔نہیں تو مچلتے اور چہکتے جا رہے ہو کسی سے کیا محبت ہے ۔ نہیں تو نکلتے ہیں سدا ہتھیار لے کر کسی سے کچھ عداوت ہے ۔ نہیں تو سڑ ک پہ رات کو کیوں سو رہے ہیں میاں گھر سے بغاوت

بدن میں کچھ حرارت ہے ۔نہیں تو Read More »