MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی – Fizae sham ziyae saher usi se mili

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملیکشش حیات کو المختصر اسی سے ملی اسی سے مجھ کو ملا اشتیاق منزل کامرے سفر کو فضائے سفر اسی سے ملی بلند مرتبۂ مشت خاک اسی نے کیاتمام فہم و ذکا و نظر اسی سے ملی غرور خود پہ جسے جس قدر بھی ہو لیکنملی جسے بھی متاع […]

فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملی – Fizae sham ziyae saher usi se mili Read More »

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون – Gheez ka sooraj tha sir per such kehta tou kon

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کونراس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگرتھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون مان رکھتا کون وش کا کون اپناتا صلیبکوئی ایسا تھا نہ

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون – Gheez ka sooraj tha sir per such kehta tou kon Read More »

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا – Hadso ka silsila manzar ba manzar jam gaya

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیاہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیا خاک کی کشتی تلے سونے کا ساغر جم گیادیدۂ بے خواب میں خواب سکندر جم گیا موسموں کے بیچ کی دوری کا اندازہ لگاؤبہہ گئے پربت پگھل کر اور سمندر جم گیا لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا – Hadso ka silsila manzar ba manzar jam gaya Read More »

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی – Muntashir har shay qareenay se sajadi jaegi

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گییا مرے کمرے کی شخصیت مٹا دی جائے گی ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خداخوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گی آگ بھڑکے گی ہوا پا کر بڑا سچ یہ نہیںسچ بڑا یہ ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے گی

منتشر ہر شے قرینے سے سجا دی جائے گی – Muntashir har shay qareenay se sajadi jaegi Read More »

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہوآسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہو خواب میں مجھ کو نظر آتی ہیں بھیگی سیپیاںآنکھ کھلنے پر تری آنکھوں میں پانی ہو نہ ہو ساتھ ہوتی ہے مرے ہر گام پر سنجیدگیہو رہی ہے دور اب مجھ سے جوانی ہو نہ ہو ہر جگہ نکلے

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو Read More »

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید – Touqeer andhero ki barhadi gayi shayad

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شایداک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شاید پھر در بدری ہونے لگی اس کا مقدرپھر شوق کے شعلوں کو ہوا دی گئی شاید موہوم نظر آتا ہے اب جوش ملاقاتکچھ گرمیٔ احساس گھٹا دی گئی شاید اس بار بھی شعلوں نے مچا ڈالی تباہیاس بار بھی شعلوں

توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شاید – Touqeer andhero ki barhadi gayi shayad Read More »

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہےدوسری عورت پہلی جیسی کب ہوتی ہے کچھ مفہوم سمجھ کر آنکھیں بول اٹھیںسرگوشی تو یوں ہی زیر لب ہوتی ہے کوئی مسیحا شاید اس کو چھو گزرادل کے اندر اتنی روشنی کب ہوتی ہے تارے ٹوٹ کے دامن میں گر جاتے ہیںجب مہمان یہاں اک دختر شب ہوتی

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے Read More »

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگااسی کے سائے میں وہ ہم کو ڈھونڈھتا ہوگا کوئی تو ضد میں یہ آ کر کبھی کہے ہم سےیہ بات یوں نہیں ایسے تھی یوں ہوا ہوگا تمہارا گھر سر مہتاب جو بنا ڈالےتمہارا بیٹا نہیں وہ خدا رہا ہوگا وہ آنکھیں ابر کی مانند رو رہی

دیا جلا کے کوئی چاند پر رکھا ہوگا Read More »

غم دنیا کے یاد جب آئیں اس کی یاد بھی آنے دو

غم دنیا کے یاد جب آئیں اس کی یاد بھی آنے دواک نشے میں اور اک نشہ اے یارو مل جانے دو آخر ہم کو اپنے حال پہ خود رونا خود ہنسنا ہےیارو اب کچھ دیر تو ٹھہرو تھوڑی تاب تو لانے دو مرجھانے سے پہلے دل کو ایک ہنسی کی حسرت کیوںبند کلی کو

غم دنیا کے یاد جب آئیں اس کی یاد بھی آنے دو Read More »

عشق جھیلا ہے تو چہرہ زرد ہونا چاہئے

عشق جھیلا ہے تو چہرہ زرد ہونا چاہئےحسن کے شیدائیوں کو مرد ہونا چاہئے بد گمانی پونچھ کر آنچل سے کوئی چوم لےاس لئے تصویر پر کچھ گرد ہونا چاہئے سچ کہو تو ہر کہانی داستان اپنی ہی ہےآدمی کے دل میں تھوڑا درد ہونا چاہئے آج کے بوسوں میں سچائی کی سرخی ہے کہاںاے

عشق جھیلا ہے تو چہرہ زرد ہونا چاہئے Read More »