MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قرار ملنا نہیں اور گر کہیں پہ مجھے – Qarar milna nahi or gar kahi pe mujhe

قرار ملنا نہیں اور گر کہیں پہ مجھے تو کیوں فلک سے اتارا گیا زمیں پہ مجھے جہاں جہاں بھی ضرورت تمہارے قرب کی تھی کمی تمہاری رہی ہے وہیں وہیں پہ مجھے تو میرا وہم تھا اور میں گمان تھا تیرا گزارنی ہے حیاتی اسی یقیں پہ مجھے وہ میری ذات پہ تنقید سے […]

قرار ملنا نہیں اور گر کہیں پہ مجھے – Qarar milna nahi or gar kahi pe mujhe Read More »

اس عہد ِ ستم گر سے یہ ٹکراؤ تو ہوگا – Is ehed e sitam gar se ye takrao tou hoga

اس عہد ِ ستم گر سے یہ ٹکراؤ تو ہوگا آئینہ ہوں مَیں مجھ پہ بھی پتھراؤ تو ہوگا ہر سانس نئے غم کا کوئی گھاؤ تو ہو گا فرزانوں سے زنداں میں یہ برتاؤ تو ہوگا دشمن کی اگر چال سمجھ پاؤ تو ہو گا یہ بازی پلٹنے کا کوئی داؤ تو ہو گا

اس عہد ِ ستم گر سے یہ ٹکراؤ تو ہوگا – Is ehed e sitam gar se ye takrao tou hoga Read More »

وہ آفتاب ہوں جو خود ہی دن نکالتا ہے – Wo aftab hu jo khud he din nikalta hai

وہ آفتاب ہوں جو خود ہی دن نکالتا ہے تُو میری رات چراغوں سے کیوں اجالتا ہے اسیر ِ شام و سحر میں رہوں وہ چاہتا ہے تبھی تو وقت مجھے روز و شَب میں ٹالتا ہے وہی مجھے بھی وسیلے حیات کے دے گا جو پتھروں میں چھپی زندگی کو پالتا ہے جسے ہوا

وہ آفتاب ہوں جو خود ہی دن نکالتا ہے – Wo aftab hu jo khud he din nikalta hai Read More »

کیا ہے جو ایک شخص ہمارا نہیں ہوا – Kya hai jo aik shakhs hamara nahi hua

کیا ہے جو ایک شخص ہمارا نہیں ہوا ایسا جنوں میں کس کو خسارا نہیں ہوا اِک عمر دسترس میں ہماری رہا مگر پل بھر بھی اس کے دل پہ اجارا نہیں ہوا اس نے بھی پھر کسی سے محبت نہ کی کبھی ہم سے بھی کار ِ عشق دوبارا نہیں ہوا وہ بھی مرے

کیا ہے جو ایک شخص ہمارا نہیں ہوا – Kya hai jo aik shakhs hamara nahi hua Read More »

شبنمی جان کو جب شعلۂ لب کھینچتا ہے – Shabnami jaan ko jab shola lab khenchta hai

شبنمی جان کو جب شعلۂ لب کھینچتا ہے کون ایسے میں یہ دیوار ِ ادب کھینچتا ہے حجرۂ مہر و وفا میں یہ مرا دل درویش عشق کے وِرد کا دَم ہجر کی شب کھینچتا ہے لمس در لمس کئی روپ ابھر آتے ہیں قیس، لیلیٰ کی وہ تصویر غضب کھینچتا ہے رنگ در رنگ

شبنمی جان کو جب شعلۂ لب کھینچتا ہے – Shabnami jaan ko jab shola lab khenchta hai Read More »

جیت کے زعم میں سب ہار کے رکھ دیتا ہے – Jeet ky za’am main sab haar ky rakh deta hai

جیت کے زعم میں سب ہار کے رکھ دیتا ہے وہ محبت میں مجھے مار کے رکھ دیتا ہے غیر مشروط نہیں ہوتی محبت اس کی مسئلے پیار میں پندار کے رکھ دیتا ہے سب کو مقتل میں تو لاتا ہے برابر پہلے مرحلے پھر سر و دستار کے رکھ دیتا ہے اور باقی نہ

جیت کے زعم میں سب ہار کے رکھ دیتا ہے – Jeet ky za’am main sab haar ky rakh deta hai Read More »

تمہاری شاموں سے , میری یادیں نکل نہ پائیں تو لوٹ آنا – Tumhari shamo se meri yadain nikal na payen tou laut ana

تمہاری شاموں سے , میری یادیں نکل نہ پائیں تو لوٹ آنا وہاں دسمبر کی بارشیں بھی نہ راس آئیں تو لوٹ آنا کبھی جو اجڑے دیارِ ماضی کی یاد آئے تو مڑ کے تکنا اگر اماوس کی ٹھنڈی راتیں ، بدن جلائیں تو لوٹ آنا عروجِ شب کے اداس لمحوں میں بھولی بھالی سی

تمہاری شاموں سے , میری یادیں نکل نہ پائیں تو لوٹ آنا – Tumhari shamo se meri yadain nikal na payen tou laut ana Read More »

ہیں دِگر گُوں ، اس قدر حالات ، پیارے ،شہر میں – Hain digar goon, is qadar halat pyare, sheher main

ہیں دِگر گُوں ، اس قدر حالات ، پیارے ،شہر میں ‏ہم نکلتے ہی نہیں اب ،غم کے مارے ، شہر میں ‏ تتلیوں سے کھیلنے کے دن ہیں جن پھولوں کے وہ ‏بیچتے ہیں ٹافیاں ، گیندیں ، غبارے ، شہر میں ‏ اب کوئی دِکھتا نہیں ، کاسوں میں سِکّے ڈالتا ‏بس بھکاری

ہیں دِگر گُوں ، اس قدر حالات ، پیارے ،شہر میں – Hain digar goon, is qadar halat pyare, sheher main Read More »

دھڑکن کے زیر و بم کو سنوارا تھا اور بس – Dharkan ky zer o bam ko sanwara tha or bas

دھڑکن کے زیر و بم کو سنوارا تھا اور بس کاغذ پہ دل کا بوجھ اُتارا تھا اور بس بس اتنا جانتا ہُوں کہ آواز اُس کی تھی اتنا پتہ ہے ، اُس نے پکارا تھا اور بس کارِ جہاں میں فائدہ کچھ ہو تو ہو مگر کارِ جنوں میں صرف خسارا تھا اور بس

دھڑکن کے زیر و بم کو سنوارا تھا اور بس – Dharkan ky zer o bam ko sanwara tha or bas Read More »

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے – Lams ki anch pe jazbon ne ubali chae

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے عشق پیتا ہے کڑک چاہتوں والی چائے کیتلی ہجر کی تھی، غم کی بنالی چائے وصل کی پی نہ سکے ایک پیالی چائے میرے دالان کا منظر کبھی دیکھو آ کر درد میں ڈوبی ہوئی شام، سوالی چائے ہم نے مشروب سبھی مضر صحت ترک کیے ایک

لمس کی آنچ پہ جذبوں نے اُبالی چائے – Lams ki anch pe jazbon ne ubali chae Read More »