MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب تلک نان ہے

جب تلک نان ہےتب تلک جان ہے سن تو سکتا نہیںایک ہی کان ہے جیت کے دن تلکہار ارمان ہے جو خدا نے دیاسانس احسان ہے تشنگی ہوش کرلب پہ دربان ہے یار خانی جو ہےدل کا سلطان ہے بن ترے جان منگھر بھی سنسان ہے جا اسے پوچھ وہکیوں پریشان ہے تو زلیخہ نہیںتو […]

جب تلک نان ہے Read More »

پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھی

پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھیروشنی دیکھتے ہی چھن گئی بینائی بھی میں کہ سقراط نہ تھا اور یہ سوچا بھی نہ تھازہر پلواۓ گی اک دن میری دانائی بھی روزنِ در کی ہوا روکے گا کب تک کوئیپھیل ہی جاۓ گی بوۓ گل تنہائی بھی اپنے میعار سے جھک کر کبھی نیچے دیکھومیری گہرائی

پڑگئی مہنگی اندھیروں سے شناسائی بھی Read More »

جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے

جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہےدیوار کہاں ورنہ کوئی قد سے بڑی ہے تیرے ہی لۓ سر پہ بٹھایا ہے وگرنہدنیا تو کبھی کی میرے قدموں میں پڑی ہے لگتا ہے کسی روز دھماکے سے گرے گیدیوار جو تنکے کے سہارے پہ کھڑی ہے یوں ہی تو نہیں میرے چراغوں میں اجالااک

جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے Read More »

نجانے کونسی جانب سے بام ودربناتا ہوں

نجانے کونسی جانب سے بام ودربناتا ہوںگلی ہی بند ہو جاتی ہے جس میں گھر بناتا ہوں عجب انداز سے تیرا نیا پیکر بناتا ہوںکبھی شیشہ کبھی پتھر بناتا ہوں سزا میں تو نے میری انگلیاں ہی کاٹ دیں یارابتا ایسے میں تیرا کونسا پیکر بناتا ہوں مجھے کچھ اس لۓ بھی شوق ہے پودے

نجانے کونسی جانب سے بام ودربناتا ہوں Read More »

جنگل بہت اداس تھا رنگوں کی آس میں

جنگل بہت اداس تھا رنگوں کی آس میںتتلی نے پر اتار دئۓ اپنے گھاس میں اس نے تو صرف کھال اتاری تھی جسم سےکیڑوں نے گھر بنا لۓ ہیں میرے ماس میں دریا کو پی گیا ہے فقط ایک گھونٹ میںصحرا کی تشنگی تھی سمندر کی پیاس میں پتھر کا خوف ایسا تھا کہ ٹو

جنگل بہت اداس تھا رنگوں کی آس میں Read More »

جو تیری آنکھ انکاری ہوئی ہے

جو تیری آنکھ انکاری ہوئی ہےمجھے کچھ اور بھی پیاری ہوئی ہے سنا جو ذکر اغیاروں سے تیراعجب سی کیفیت طاری ہوئی ہے تمھارے ساتھ گزری ایک ساعتہماری عمر پہ بھاری ہوئی ہے ندی کا ذائقہ بدلا ہوا ہےہمارے اشک سے کھاری ہوئی  ہے تمھاری یاد مرہم بن کے اتریہماری سانس جب آری ہوئی ہے

جو تیری آنکھ انکاری ہوئی ہے Read More »

خلاوں کا سفر کرنا ہے مجھ کو

خلاوں کا سفر کرنا ہے مجھ کوپرندوں کی طرح اڑنا ہے مجھ کو سند دینے کو اپنے حوصلے کیبلندی کو بھی سر کرنا یے مجھ کو بہت عرصے سے زنجیر۔قفس ہوںیہ پنجرہ توڑ کر اڑنا ہے مجھ کو مرے جوڑے میں  اس کا پھول مہکےشجر کو خوں سے تر کرنا ہے مجھ کو خطائیں جو 

خلاوں کا سفر کرنا ہے مجھ کو Read More »

تمھارے پیار کے امرت کو خود میں گھو لوں میں

تمھارے پیار کے امرت کو خود میں گھو لوں میںذرا سا ہوش میں  آ لوں یہاں تو بولوں میں میں سن رہی ہوں کہیں پھر صدائے کن فیکونیہ کائنات کی خواہش ہے مست ہو لوں میں چبھن ہے خار سی مجبوریوں  کی اس دل میںسو بن کے تازہ  ہوا  گل کے راز کھولوں میں بھگو

تمھارے پیار کے امرت کو خود میں گھو لوں میں Read More »

زندگی صورت بیمار نہیں چاہتے ہم

زندگی صورت بیمار نہیں چاہتے ہمکوئی ہو باعث۔آزار  نہیں چاہتے ہم   حوصلہ رکھتے ہیں اور اپنے عزائم اعلیسر۔مقتل کوئی تلوار نہیں  چاہتے ہم جن کی قیمت نہ ہو  کوئی وہ ہیں انمول بہتان کی بولی   سر۔بازار نہیں چاہتے ہم   مجھ سے بہتر وہ میرے طرز۔ سخن کو سمجھےاس طرح  سے  وہ کرے پیار

زندگی صورت بیمار نہیں چاہتے ہم Read More »

تمھارے رنگ میں کچھ اس طرح سماتی رہی

تمھارے رنگ میں کچھ اس طرح سماتی رہیکہ آئینے میں تمھارا ہی عکس پاتی رہی یہ سوچ کر وہاں  شاید  مجھے ملے انعامیہاں پہ زخم ملا بھی تو مسکراتی رہی نظر فلک پہ رہی پھر بھی  دل سجود میں تھامیں اس طرح بھی ترے در پہ سر جھکائی رہی تمھارا ساتھ ملا مجھ کو ایک

تمھارے رنگ میں کچھ اس طرح سماتی رہی Read More »