MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق کے بارے میں اپنے،کیا کہوں اب اور میں

عشق کے بارے میں اپنے،کیا کہوں اب اور میںمیں کراچی میں ہوں لیکن، روح ہے لاہور میں اُس سڑک سے جب بھی گزروں ایسا لگتا ہے وہیگاؤں والی جارہی ہے بیٹھ کر شہز ور میں خوبصورت جوڑیوں میں کیوں نہیں ہوگا شمارمورنی ہیں آپ میری،آپ کا ہوں مور میں اب یہی بہتر ہے اپنے راستے […]

عشق کے بارے میں اپنے،کیا کہوں اب اور میں Read More »

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیںمجھ کو اک آزار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں پاگل پن میں آکر پاگل کچھ بھی تو کرسکتا ہےخود کو عزت دار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں منزل کی خواہش ہے جن کو آئیں میرے ساتھ چلیںرستوں کو ہموار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں

معمولی بے کار سمجھنے والے مجھ سے دور رہیں Read More »

اُٹھا کے خود کو زمیں پر پٹخ دیا ہاہا

اُٹھا کے خود کو زمیں پر پٹخ دیا ہاہاپھر اس کے بعد بہت دیر تک ہنسا ہاہا کوئی نہ جاتا تھا اُس گھر میں بھوت کے ڈر سےوہاں گیا تو صدا آئی مرحبا ہاہا کچھ ایسی شان سے داخل ہوا ہوں مندر میںسبھی پکار اُٹھے ہیں خدا خدا ہاہا وہ اب کی بار بنانے سے

اُٹھا کے خود کو زمیں پر پٹخ دیا ہاہا Read More »

کل اُس درخت تلے آنکھ کیا لگی اُستاد

کل اُس درخت تلے آنکھ کیا لگی اُستادچڑیل میرے گلے لگ کے روپڑی اُستاد پڑی تھی لاش مری اور ہنس رہے تھے گدھپھر اُس کے بعد مری آنکھ کھل گئی استاد میں حور جان کے اُس کے قریب آیا تووہ آگ تھی سو اچانک بھڑک اُٹھی استادڈسا نہیں تھا مجھے اُس سفید ناگن نےبدن پہ

کل اُس درخت تلے آنکھ کیا لگی اُستاد Read More »

مجھے تو خود نہیں معلوم یہ ہوا کیسے

مجھے تو خود نہیں معلوم یہ ہوا کیسےکہ اپنی عمر سے لگنے لگا بڑا کیسے خود اپنے گھر کے ہی افراد جس کے دشمن ہوںنشہ کسی کے وہ کہنے پہ چھوڑتا کیسے بچا لیا تو دوبارہ بھٹکتی موجوں میںشکار کی گئی مچھلی کو چھوڑتا کیسے پکڑ گناہ پہ جب ہوگی روزِ حشر مریکروں گا ماں

مجھے تو خود نہیں معلوم یہ ہوا کیسے Read More »

خدا کی ذات ہے سب کچھ،بشر وشر ہے فریب

خدا کی ذات ہے سب کچھ،بشر وشر ہے فریبیہ عقل وقل ہے دھوکہ اگر مگر ہے فریب پھر ایک دن مری آوارگی نے دیکھ لیاسفر وفر ہے تماشا، نگر وگر ہے فریب کُھلا ہے چادرِ نجم ِ فلک اُلٹنے سےیہ شمس ومس ہے دھبّہ،قمر ومر ہے فریب تمھارا حسن مری آنکھ کی ضرورت ہےیہ پیار

خدا کی ذات ہے سب کچھ،بشر وشر ہے فریب Read More »

ایسا بھی کیا ہے اُس میں،اُسے چھوڑتا نہیں

ایسا بھی کیا ہے اُس میں،اُسے چھوڑتا نہیںجو شخص تیرا ہوکے بھی تیرا ہُوا نہیں ملنے چلا بھی جاؤں تو کچھ بولتا نہیںمیں دوستوں میں اس لیے اب بیٹھتا نہیں انکار کردے مجھ سے جو ملنے سے ایک باراُس کی طرف پلٹ کے کبھی دیکھتا نہیں اپنے پہ اختیار چلاتا بھی کب تلکخود کو کہیں

ایسا بھی کیا ہے اُس میں،اُسے چھوڑتا نہیں Read More »

ترے خیال میں جب بے خیال ہوتا ہوں

ترے خیال میں جب بے خیال ہوتا ہوںذرا سی دیر سہی،لازوال ہوتا ہوں کبھی ترنگ میں آکر نشیلی آنکھوں سےوہ دیکھ لے تو خوشی سے نہال ہوتا ہوں کلامِ حسن کی ہر باوقار محفل میںمثال دے کے تری،بے مثال ہوتا ہوں ترے جمال سے بڑھ کر ہے تشنگی میریوصال کرکے بھی میں بے وصال ہوتا

ترے خیال میں جب بے خیال ہوتا ہوں Read More »

اپنی محنت پہ یقیں ہے سو ہنر گنتے ہیں – Apni mehnat pe yakeen hai so hunar ginte hain

اپنی محنت پہ یقیں ہے سو ہنر گنتے ہیں ہم بھکاری تو نہیں ہیں کہ جو در گنتے ہیں اپنے اجداد کی عظمت کا حوالہ مت دے ہم ہَوا ذاد تو پرواز سے پَر گِنتَے ہیں یہ بھٹکتے ہوئے ، معصوم ، چمکتے جگنو جانے کس کے لئے راتوں کو شجر گنتے ہیں اس سے

اپنی محنت پہ یقیں ہے سو ہنر گنتے ہیں – Apni mehnat pe yakeen hai so hunar ginte hain Read More »

یاد کرنا اسے اب تک مری روٹین میں ہے – Yaad karna use ab tak meri routine mai hai

یاد کرنا اسے اب تک مری روٹین میں ہے اس کا کردار مری زیست کے ہر سِین میں ہے ہفت ِ کشور کی تمنا ہے نہ سیم و زر کی ! عشق کا نفع تو بس حسن کی آمین میں ہے تجھ سے پوشیدہ تو رہتا ہی نہیں راز کوئی وصف ، یہ خاص تری

یاد کرنا اسے اب تک مری روٹین میں ہے – Yaad karna use ab tak meri routine mai hai Read More »