MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس

غزل داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس مجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بس جس کو سن کر کبھی خوش ہوتے ہو ناراض کبھی آپ فرمائیں کہ دہراؤں وہی بات کہ بس کیا میں اب چھوڑ دوں یا رب یہیں امید کا ساتھ کیا ابھی اور ٹھہر سکتی ہے یہ […]

داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس Read More »

خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نے

غزل خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نے بھروسہ کر لیا کاغذ کی ناؤ پر ہم نے یہ دل کا زخم تو بھرنے میں ہی نہیں آتا رکھا ہے پیار کا مرہم بھی گھاؤ پر ہم نے یہ ایک سچ ہے کہ تم کو بھلا نہیں پائے عمل کیا تھا تمہارے

خط ان کو بھیجا ہے دل کے سجھاو پر ہم نے Read More »

معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ

غزل معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ اور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھ پہنچ کے دیکھا تو مانگے کی روشنی کے سوا فلک کے تاروں میں کچھ ہے نہ ماہتاب میں کچھ ہر ایک گھونٹ میں یکساں نہیں تھی تلخیٔ مے کہ گھول دیتے ہیں حالات بھی شراب

معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ Read More »

آئنہ دیکھنا انگشت بدنداں رہنا

غزل آئنہ دیکھنا انگشت بدنداں رہنا اس نے تو ہم کو بھی سکھلا دیا حیراں رہنا ڈگمگا جائیں قدم راہ طلب میں کس وقت تو مرے ساتھ مرے شوق گریزاں رہنا دل نازک کو لگانا تھا ٹھکانے یا رب اس کے بس کا نہیں نزدیک رگ جاں رہنا جو ہوا طور پہ اس میں نہیں

آئنہ دیکھنا انگشت بدنداں رہنا Read More »

ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود

غزل ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود کعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجود کیا کیجیئے کہ گرد طلب کی جمی رہی دامان دل کو روز جھٹکنے کے باوجود شاید کھلی ہے آپ کے آنے سے چاندنی دھندلی سی لگ رہی تھی چھٹکنے کے باوجود کیسا ہے یہ بہار کا موسم کہ

ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود Read More »

اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں

غزل اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں وہ میرے ساتھ کبھی عرش تک گیا ہی نہیں میں اس کو اور ہی عالم میں لے گیا ہوتا زمانہ انگلی پکڑ کر مری چلا ہی نہیں ہر ایک چہرے پہ کتنی عبارتیں ہیں رقم مری جبیں پہ تو کچھ وقت نے لکھا ہی نہیں بلا

اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں Read More »

رونا زار و قطار چھوڑ دیا

غزل رونا زار و قطار چھوڑ دیا ہم نے یہ کاروبار چھوڑ دیا جس پہ نقش قدم تھے مجنوں کے ہم نے وہ خار زار چھوڑ دیا ہم نے تارے تو گن لیے لیکن آنسوؤں کا شمار چھوڑ دیا ساتھ امید ہی کا میں نے تو تھا بہت خوش گوار چھوڑ دیا جو بھروسہ تھا

رونا زار و قطار چھوڑ دیا Read More »

میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گا

غزل میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گا سر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گا خواہشوں کے ڈوبتے سورج نے بتلایا نہ تھا میرا سایہ میرے قد سے بھی بڑا ہو جائے گا یا تو مجھ سے چھین لو یہ بت تراشی کا ہنر ورنہ میں جو

میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گا Read More »

بلاؤ اس کو زباں داں جو مظہریؔ کا ہو

غزل بلاؤ اس کو زباں داں جو مظہریؔ کا ہو مگر ہے شرط کہ اکیسویں صدی کا ہو یقیں وہی ہے جو آغوش تیرگی میں ملے سواد وہم میں ہم سایہ روشنی کا ہو بتوں کو توڑ کے ایسا خدا بنانا کیا بتوں کی طرح جو ہم شکل آدمی کا ہو مرا غرور نہ کیوں

بلاؤ اس کو زباں داں جو مظہریؔ کا ہو Read More »

اک انفعال کو طاقت سمجھ رہے ہو تم

غزل اک انفعال کو طاقت سمجھ رہے ہو تم سوال یہ ہے کہ کس طرح سوچتے ہو تم بہار آگ نہ دے گی تمہارے چولہوں کو یہ اور بات کہ اس سے بہل گئے ہو تم دیار وہم و گماں میں نہ اب حرم ہے نہ دیر اجڑ چکی ہے وہ بستی جدھر چلے ہو

اک انفعال کو طاقت سمجھ رہے ہو تم Read More »