MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اب امن و آشتی کا پیمبر نہیں رہا

اب امن و آشتی کا پیمبر نہیں رہا یعنی وہ بھولا بھالا کبوتر نہیں رہا یہ کہہ رہے ہیں ساکت و جامد مزاج لوگ تدبیر کی حدوں میں مقدر نہیں رہا حاوی تھے اس طرح سے زمانے کے مسئلے مجھ کو تیرا خیال بھی اکثر نہیں رہا کیا سنگباری کرتے ہوئے تھک گئے ہو تم […]

اب امن و آشتی کا پیمبر نہیں رہا Read More »

شاہوں کے مصاحب جیت گئے، طاقت کے حواری جیت گئے

شاہوں کے مصاحب جیت گئے، طاقت کے حواری جیت گئے غربت کو شکست ِفاش ہوئی، دولت کے پجاری جیت گئے ایامِ اسیری بیت گئے، حالات کے بندی خانے میں سچائی یہاں مصلوب ہوئی ،جلسوں کے مداری جیت گئے اس جنگل کے قانون کی بھی، بجھ پائی نہیں ہے پیاس کبھی معصوم پرندے ہار گئے، بے

شاہوں کے مصاحب جیت گئے، طاقت کے حواری جیت گئے Read More »

کیا کسی سے کوئی کہے آخر

کیا کسی سے کوئی کہے آخر اپنے اپنے نہ جب ہوئے آخر میں شجر کی طرح ہوں ایستادہ تم پرندے تھے اڑ گئے آخر وقت نے کر دیا ہے سچ ثابت غیر پھر تم بھی ہو گئے آخر سارے صدمے تمھارے حصے کے میں نے ہی جان پر سہے آخر کب تلک روکتی ان آنکھوں

کیا کسی سے کوئی کہے آخر Read More »

ہمارے دل پہ اجارا، اُسی کا ہے صاحب

ہمارے دل پہ اجارا، اُسی کا ہے صاحب ہم اہل دل کو سہارا، اُسی کا ہے صاحب میں نیند میں بھی کسی اور کی نہیں ہوتی کہ مجھ کو نام گوارا اُسی کا ہے صاحب جو فائدے کو فقط اپنا حق سمجھتا ہے محبتوں میں خسارہ اُسی کا ہے صاحب ہے اس کی فرماں روائی

ہمارے دل پہ اجارا، اُسی کا ہے صاحب Read More »

دَرد عُنوان کھا گئے اُن کو

دَرد عُنوان کھا گئے اُن کو ہاں مِری جان، کھا گئے اُن کو کُچھ درختوں کی آنکھ لَگتے ہی تیز طُوفان کھا گئے اُن کو وہ جو اَرمان تھے مِرے دِل میں خَوف اَنجان، کھا گئے اُن کو جو نُمایاں تھیں رَونَقیں رُخ پَر دِل کے نُقصان کھا گئے اُن کو اُس نے زَریاب جَب

دَرد عُنوان کھا گئے اُن کو Read More »

اس کے دیدار کو گئی آنکھیں

اس کے دیدار کو گئی آنکھیں تب ہی بیناٸی کھو گٸی آنکھیں تجھ کو دنیا میں ڈھونڈنے کے لیے اک مسافر سی ہو گئی آنکھیں بس تری دید کی تمنّا تھی دید کے بعد سو گئی آنکھیں دل دھڑکنا سکھا گیا دل کو خواب آنکھوں میں بو گئی آنکھیں پھر پلٹ کر کبھی نہیں آئیں

اس کے دیدار کو گئی آنکھیں Read More »

اپنے افسردہ خیالات پہ ہنس دیتے ہیں

اپنے افسردہ خیالات پہ ہنس دیتے ہیں کتنے ہی ایسے مقامات پہ ہنس دیتے ہیں آنکھ بھر آتی ہے جب بھی کسی محرومی پر ہم اداکار ہیں، حالات پہ ہنس دیتے ہیں لوگ ہنستے ہیں مسرت کے کسی لمحے میں ہم ہیں وہ لوگ جو صدمات پہ ہنس دیتے ہیں توڑ کر ضبط، چھلک جاتی

اپنے افسردہ خیالات پہ ہنس دیتے ہیں Read More »

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکے

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکےدل میں ہزار زخم تھے جو نہ انہیں دکھا سکے گھر میں جو اک چراغ تھا تم نے اسے بجھا دیاکوئی کبھی چراغ ہم گھر میں نہ پھر جلا سکے شکوہ نہیں ہے عرض ہے ممکن اگر ہو آپ سےدیجے مجھ کو غم ضرور دل جو

آنکھوں نے حال کہہ دیا ہونٹ نہ پھر ہلا سکے Read More »

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئےاس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے یہ درد ہے ہمدم اسی ظالم کی نشانیدے مجھ کو دوا ایسی کہ آرام نہ آئے کاندھے پہ اٹھائے ہیں ستم راہ وفا کےشکوہ مجھے تم سے ہے کہ دو گام نہ آئے لگتا ہے کہ پھیلے گی شب

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے Read More »

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسوگر کے دامن پہ بنے تھے جو ستارے آنسو لعل و گوہر کے خزانے ہیں یہ سارے آنسوکوئی آنکھوں سے چرا لے نہ تمہارے آنسو ان کی آنکھوں میں جو آئیں تو ستارے آنسومیری آنکھوں میں اگر ہوں تو بچارے آنسو دامن صبر بھی ہاتھوں سے مرے چھوٹ گیااب

ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو Read More »