MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم لوگ کبھی حق کبھی ناحق پہ اڑے ہیں

ہم لوگ کبھی حق کبھی ناحق پہ اڑے ہیںایسے میں ہم اپنی ہی نگاہوں میں گرے ہیں پہنے ہوئے پھرتے ہیں سبھی جھوٹ کا ملبوسلگتے ہیں بظاہر کہ بہت صاف کھرے ہیں ایسا تو نہیں ان میں  سمجھ بوجھ نہیں ہےاوہام پرستی میں مگر پھر بھی گھرے ہیں چہرے پہ بناوٹ کی محبت کا ہے […]

ہم لوگ کبھی حق کبھی ناحق پہ اڑے ہیں Read More »

وہ ایک خواب جو اس نے کبھی دکھایا تھا

وہ ایک خواب جو اس نے کبھی دکھایا تھاوہ مرتے دم بھی میری آنکھ میں سمایا تھا اندھیری رات میں چمکا وہ چاند ہو جیسےسلگتی دھوپ میں وہ بادلوں کا سایا تھا وہ ایک پل کہ ہنسے جس میں بے تحاشا ہماس ایک پل نے ہمیں عمر بھر رلایا تھا جو آج سائے میں بیٹھے

وہ ایک خواب جو اس نے کبھی دکھایا تھا Read More »

جب دیئے دل کے سرشام ہی جلنے لگ جائیں

جب دیئے دل کے سرشام ہی جلنے لگ جائیںاشک بے ساختہ آنکھوں سے چھلکنے لگ جائیں سر پہ الزام کے بادل ہوں تو ڈر لگتا ہےکہیں تہمت کی گھٹائیں نہ برسنے لگ جائیں بس یہی خوف ہمیں دور کئے ہے تم سےروبرو آئو جو تم، ہم نہ بہکنے لگ جائیں دیکھ کر ساتھ مرے باد

جب دیئے دل کے سرشام ہی جلنے لگ جائیں Read More »

عشق کی آگ کو دامن سے ہوا دی جائے

عشق کی آگ کو دامن سے ہوا دی جائےاپنے اشکوں سے یہی آگ بجھا دی جائے دل کی دیوار کی تزئین اگر ہو مقصودجی کو جو بھائے وہ تصویر لگا دی جائے کسی سمجھوتےکی صورت ہو اگر نا ممکنان کی ہر بات کو ٹھوکر میں اڑا دی جائے منصف۔وقت سے انصاف ملے یا نہ ملےاب

عشق کی آگ کو دامن سے ہوا دی جائے Read More »

دل کے گوشوں سے جو آوازِ محبت نکلے

دل کے گوشوں سے جو آوازِ محبت نکلےپھول صحراؤں میں کھلنے کی بھی صورت نکلے کتنے آباد مرے شہر کے ویرانے ہیںکتنے ذی ہوش یہاں مائلِ وحشت نکلے یوں تو بے نور سی بنجر سی ہیں آنکھیں لیکنجب کبھی اشک بہے، اشکِ ندامت نکلے جن کو دیکھا تھا چٹانوں کی بلندی جیساپاس جو آئے تو

دل کے گوشوں سے جو آوازِ محبت نکلے Read More »

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیں

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیںکہ جیسے یاد تمھاری کبھی تھمی ہی نہیں سماعتوں میں مری گونجتی رہی ہر دموہ ایک بات جو اس نے کبھی کہی ہی نہیں نہ جانے کسی لئے اس کا ہی انتظار رہاوہ ایک شخص کہ جس سے کبھی ملی ہی نہیں ہوا نے جب بھی اڑایا

ہوا چلی تو بہت دیر تک رکی ہی نہیں Read More »

سامنے رکھ کے آئینہ زریاب

سامنے رکھ کے آئینہ زریاب ڈھونڈتی ہوں میں راستہ زریاب ۔ درد کچھ اور بڑھ گیا میرا شعر جب بھی کوئی ہوا زریاب کوئی رستہ نہیں ہے سوچوں میں ایک جنگل ہے یہ گھنا زریاب مجھ سے آنکھیں سوال کرتی ہیں پچھلے خوابوں کا کیا بنا زریاب وصل اور ہجر چکھ چکی ہوں میں ایک

سامنے رکھ کے آئینہ زریاب Read More »

جی چاہتا ہے راہِ وفا میں گزر بھی ہو.

جی چاہتا ہے راہِ وفا میں گزر بھی ہو. لیکن تمھارا عشق ذرا معتبر بھی ہو بادل بھی آسماں سے زمیں پر برس پڑے لیکن زمیں کی آہ میں اتنا اثر بھی ہو اس سنگدل کا دل بھی پگھلتا ہی جائے گا لیکن ہماری آہ و فغاں میں شرر بھی ہو مجذوب میں نہیں ہوں

جی چاہتا ہے راہِ وفا میں گزر بھی ہو. Read More »

میں زرد ہوتی کلی ہوں لیکن، میں شاخِ جاں سے جھڑی نہیں ہوں

میں زرد ہوتی کلی ہوں لیکن، میں شاخِ جاں سے جھڑی نہیں ہوں یہ بوجھ میرا ، مرا رہے گا، ترے سہارے کھڑی نہیں ہوں کسی سے ادنی’ بھی میں نہیں ہوں، مگر کسی سے بڑی نہیں ہوں میں اپنے پیروں پہ ہی کھڑی ہوں، کسی کے دم پر کھڑی نہیں ہوں بہت ہی سرکش

میں زرد ہوتی کلی ہوں لیکن، میں شاخِ جاں سے جھڑی نہیں ہوں Read More »

آنکھ ویران ہوگئی صاحب

آنکھ ویران ہوگئی صاحب آس بے جان ہوگئی صاحب آپ بن دیکھ کر ہمیں تنہا راہ حیران ہوگئی صاحب روح اپنے بدن کے آنگن میں آج مہمان ہوگئی صاحب دلکشی کا خمار جب اترا اپنی پہنچان ہوگئی صاحب آپ کی آرزو فسانے کا اب تو عنوان ہوگئی صاحب جو جوانی تھی آئینے کا وقار ان

آنکھ ویران ہوگئی صاحب Read More »