MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے

اے دوست کہیں تجھ پہ بھی الزام نہ آئے
اس میری تباہی میں ترا نام نہ آئے

یہ درد ہے ہمدم اسی ظالم کی نشانی
دے مجھ کو دوا ایسی کہ آرام نہ آئے

کاندھے پہ اٹھائے ہیں ستم راہ وفا کے
شکوہ مجھے تم سے ہے کہ دو گام نہ آئے

لگتا ہے کہ پھیلے گی شب غم کی سیاہی
آنسو مری پلکوں پہ سر شام نہ آئے

میں بیٹھ کے پیتا رہوں بس تیری نظر سے
ہاتھوں میں کبھی میرے کوئی جام نہ آئے

بیٹھا ہوں دیا گھر کا جو ناصرؔ میں جلا کے
ایسا نہ ہو پھر وہ دل ناکام نہ آئے

حکیم ناصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم