MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں

اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیںپھولوں کی تمنا تھی مگر خار ملے ہیں انمول جو انساں تھا وہ کوڑی میں بکا ہےدنیا کے کئی ایسے بھی بازار ملے ہیں جس نے بھی مجھے دیکھا ہے پتھر سے نوازاوہ کون ہیں پھولوں کے جنہیں ہار ملے ہیں مالک یہ دیا آج ہواؤں سے بچاناموسم […]

اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں Read More »

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھیاس قدر الجھن میں پہلے زندگی دیکھی نہ تھی یہ تماشا بھی عجب ہے ان کے اٹھ جانے کے بعدمیں نے دن میں اس سے پہلے تیرگی دیکھی نہ تھی آپ کیا آئے کہ رخصت سب اندھیرے ہو گئےاس قدر گھر میں کبھی بھی روشنی

عشق کر کے دیکھ لی جو بے بسی دیکھی نہ تھی Read More »

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گادیوانہ لے کے جان کا نذرانہ آئے گا تجھ کو بھلا کے لوں گا میں خود سے بھی انتقامجب میرے ہاتھ میں کوئی پیمانہ آئے گا آسان کس قدر ہے سمجھ لو مرا پتہبستی کے بعد پہلا جو ویرانہ آئے گا اس کی گلی میں سر کی

جب بھی جلے گی شمع تو پروانہ آئے گا Read More »

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہےسنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگینام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہومیں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے اب مری دید

جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے Read More »

کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہے

کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہےوہ ایک شخص جو سچ مچ خداؤں جیسا ہے ہماری شمع تمنا بھی جل کے خاک ہوئیہمارے شعلوں کا عالم چتاؤں جیسا ہے وہ بس گیا ہے جو آ کر ہماری سانسوں میںجبھی تو لہجہ ہمارا دعاؤں جیسا ہے تمہارے بعد اجالے بھی ہو گئے رخصتہمارے شہر کا

کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہے Read More »

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھیمیری مدہوشی مرے جام سے آگے نہ بڑھی دل کی حسرت دل ناکام سے آگے نہ بڑھیزندگی موت کے پیغام سے آگے نہ بڑھی وہ گئے گھر کے چراغوں کو بجھا کر میرےپھر ملاقات مری شام سے آگے نہ بڑھی رہ گئی گھٹ کے تمنا یوں ہی دل میں

مےکشی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی Read More »

زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد

زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعدحوصلہ دینا انہیں میرے خدا میرے بعد کون گھونگھٹ کو اٹھائے گا ستم گر کہہ کےاور پھر کس سے کریں گے وہ حیا میرے بعد پھر محبت کی زمانے میں نہ پرسش ہوگیروئے گی سسکیاں لے لے کے وفا میرے بعد ہاتھ اٹھتے ہوئے ان کے نہ

زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد Read More »

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیادل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا اب کھولیے کتاب نصیحت کو شیخ پھرشب مے کدہ میں آپ نے جو کچھ کیا کیا وہ خواب ناز میں تھے مرا دیدۂ نیازدیکھا کیا اور ان کی بلائیں لیا کیا روز ازل سے تا بہ ابد اپنی

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا Read More »

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گیموت آئے گی تو اے ہمدم شفا ہو جائے گی ہوگی جب نالوں کی اپنے زیر گردوں بازگشتمیرے درد دل کی شہرت جا بجا ہو جائے گی کوئے جاناں میں اسے ہے سجدہ ریزی کا جو شوقمیری پیشانی رہین نقش پا ہو جائے گی کاکل

درد کو رہنے بھی دے دل میں دوا ہو جائے گی Read More »

گداز دل سے پروانہ ہوا خاک

گداز دل سے پروانہ ہوا خاکجیا بے سوز میں تو کیا جیا خاک کسی کے خون ناحق کی ہے سرخیرنگیں گی دست قاتل کو حنا خاک نگہ میں شرم کے بدلے ہے شوخیکھلے پھر رات کا کیا ماجرا خاک لبوں تک آ نہیں سکتا تو پھر میںکہوں کیا اپنے دل کا مدعا خاک بلندی سے

گداز دل سے پروانہ ہوا خاک Read More »