MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکیمرے مدعا پر نہیں ہو چکی برا ہو مری ناتوانی ترانگاہ دم واپسیں ہو چکی امید کرم کچھ نہ ساقی سے رکھکہ اب وہ مے ساتگیں ہو چکی سناؤں اگر تا قیامت تو کیاکہانی مری دل نشیں ہو چکی کروں کس طرح اب میں عرض نیازکہ باقی ہے […]

جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی Read More »

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئےہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئے یہ تو خبر نہیں کہ کہاں اور کدھر گئےلیکن یہاں سے دور کچھ اہل سفر گئے ارماں جو ہم نے جمع کئے تھے شباب میںپیری میں وہ خدا کو خبر ہے کدھر گئے رتبہ بلند ہے مرے داغوں کا

کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئے Read More »

مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو

مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہواگر جاں ہو عزیز اپنی تو جاناں پر فدا کیوں ہو اٹھے جو آگ سینہ سے دبا دوں اس کو اشکوں سےشب ہجراں میں نالہ سے مرا لب آشنا کیوں ہو ملو خلوت میں اور دو تم مجھے درس شکیبائیکرم تم میں نہ ہو تو دل

مریض عشق کی جز مرگ دنیا میں دوا کیوں ہو Read More »

مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو

مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہوکتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہو وہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیالوہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو ایسی تو بے اثر نہیں بیتابئ فراقنالے کروں میں اور کسی کو خبر نہ ہو مل

مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو Read More »

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شرابمجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شراب قافلہ عیش کا تیار ہے رندوں کے لیےقلقل شیشۂ مے ہے جرس جام شراب جنبش باد سحر سے ہے تموج مے میںقوت جان حزیں ہے نفس جام شراب خم لنڈھا دوں تو نہ چکرائے کبھی سر میراایک جرعہ

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب Read More »

سنگ برسیں گے اور مسکرائیں گے ہم

سنگ برسیں گے اور مسکرائیں گے ہمیوں بھی کوئے ملامت میں جائیں گے ہم آئنہ تیرے غم کو دکھائیں گے ہمدل جلے گا مگر مسکرائیں گے ہم ہر مسرت سے دامن بچائیں گے ہمغم ترا اس طرح آزمائیں گے ہم اب یہ سوچا ہے اک شخص کی یاد کوزندگی کی طرح بھول جائیں گے ہم

سنگ برسیں گے اور مسکرائیں گے ہم Read More »

اس طرح عہد تمنا کو گزارے جائیے

اس طرح عہد تمنا کو گزارے جائیےان کو خاموشی کے لہجے میں پکارے جائیے عشق کا منصب نہیں آوازۂ لفظ و بیاںآنکھوں ہی آنکھوں میں ہر اک شکوہ گزارے جائیے دیکھیے رسوا نہ ہو جائے کہیں رسم جنوںاپنے دیوانے کو اک پتھر تو مارے جائیے آئنہ پہ جو گزرنا ہو گزر جائے مگرآپ یوں ہی

اس طرح عہد تمنا کو گزارے جائیے Read More »

عزم سفر سے پہلے بھی اور ختم سفر سے آگے بھی

عزم سفر سے پہلے بھی اور ختم سفر سے آگے بھیراہ گزر ہی راہ گزر ہے راہ گزر سے آگے بھی تاب نظر تو شرط ہے لیکن حد نظر کیوں حائل ہےجلوہ فگن تو جلوہ فگن ہے حد نظر سے آگے بھی صبح ازل سے شام ابد تک میرے ہی دم سے رونق ہےاس منظر

عزم سفر سے پہلے بھی اور ختم سفر سے آگے بھی Read More »

دیکھنا یہ عشق میں حسن پذیرائی کے رنگ

دیکھنا یہ عشق میں حسن پذیرائی کے رنگانجمن در انجمن ہوں میری تنہائی کے رنگ دل کے ہر گوشے میں جل اٹھے ہیں زخموں کے چراغاللہ اللہ اک مسیحا کی مسیحائی کے رنگ اس ادا سے آ گئے ہیں وہ نظر کے روبرواور گہرے ہو گئے ہیں اس دل کی بینائی کے رنگ ہو صداقت

دیکھنا یہ عشق میں حسن پذیرائی کے رنگ Read More »

اس طرح مہ رخوں کو پشیماں کریں گے ہم

اس طرح مہ رخوں کو پشیماں کریں گے ہماب داغ داغ دل کا نمایاں کریں گے ہم آئینہ بن کے جائیں گے بزم جمال میںمحفل کے رو بہ رو انہیں حیراں کریں گے ہم آئے تو وہ بہار دل و جاں نگاہ میںاک اک نفس کو رشک گلستاں کریں گے ہم اس بت کو اپنے

اس طرح مہ رخوں کو پشیماں کریں گے ہم Read More »