جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی
جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکیمرے مدعا پر نہیں ہو چکی برا ہو مری ناتوانی ترانگاہ دم واپسیں ہو چکی امید کرم کچھ نہ ساقی سے رکھکہ اب وہ مے ساتگیں ہو چکی سناؤں اگر تا قیامت تو کیاکہانی مری دل نشیں ہو چکی کروں کس طرح اب میں عرض نیازکہ باقی ہے […]
جو ہونی تھی وہ ہم نشیں ہو چکی Read More »