MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب

پھرتا رہتا ہوں میں ہر لحظہ پس جام شراب
مجھ کو بد نام کرے گی ہوس جام شراب

قافلہ عیش کا تیار ہے رندوں کے لیے
قلقل شیشۂ مے ہے جرس جام شراب

جنبش باد سحر سے ہے تموج مے میں
قوت جان حزیں ہے نفس جام شراب

خم لنڈھا دوں تو نہ چکرائے کبھی سر میرا
ایک جرعہ میں گیا بو الہوس جام شراب

مجھ سے پوچھو اثر بادۂ گلگوں واعظ
میں ہوں رندوں میں بہت نکتہ رس جام شراب

ٹکٹکی باندھ کے دیکھا کیا اتنا کہ بنا
سایۂ مردم دیدہ مگس جام شراب

مے نہ ہو بو ہی سہی کچھ تو ہو رندوں کے لئے
اسی حیلہ سے بجھے گی ہوس جام شراب

زلف مشکیں کے لیے بو جو چلی آتی ہے
ہے نسیم سحری ہم نفس جام شراب

ہم نے رندوں کا مقولہ یہ سنا ہے شیداؔ
صحبت عیش میں زاہد ہے خس جام شراب

حکیم محمد اجمل خان شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم