MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جلووں کا جو تیرے کوئی پیاسا نظر آیا

جلووں کا جو تیرے کوئی پیاسا نظر آیاوہ ذات میں اپنی ہمیں دریا نظر آیا زد پر جو نگاہوں کی وہ چہرا نظر آیاکچھ رنگ حیا اور نکھرتا نظر آیا یہ حسن تغزل کا کرشمہ نظر آیاوہ جان غزل شعر سراپا نظر آیا اک سلسلۂ لا متناہی تھا غم عشقارمان سے ارمان نکلتا نظر آیا […]

جلووں کا جو تیرے کوئی پیاسا نظر آیا Read More »

نفس نفس نے اڑائیں ہوائیاں کیا کیا

نفس نفس نے اڑائیں ہوائیاں کیا کیابرنگ عشق ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا ہمیں نے عشق کو حسن انا کا رنگ دیاہمیں پہ عشق میں آئیں برائیاں کیا کیا مرے تقدس ایماں سے کھیلتی ہی رہیںتری نگاہ کی کافر ادائیاں کیا کیا سکوں گرفتہ نہ دل ہی نہ آنکھ خوں بستہتمام عمر رہیں نارسائیاں کیا

نفس نفس نے اڑائیں ہوائیاں کیا کیا Read More »

توڑ کر جوڑ دیا کرتے ہو کیا کرتے ہو

توڑ کر جوڑ دیا کرتے ہو کیا کرتے ہودل پہ یوں مشق جفا کرتے ہو کیا کرتے ہو راز دل فاش کیا کرتے ہو کیا کرتے ہونام سے میرے حیا کرتے ہو کیا کرتے ہو روز اقرار وفا کرتے ہو کیا کرتے ہوزخم دل پھر سے ہرا کرتے ہو کیا کرتے ہو تم سے منسوب

توڑ کر جوڑ دیا کرتے ہو کیا کرتے ہو Read More »

وہ دل میں اور قریب‌ رگ گلو بھی ملے

وہ دل میں اور قریب‌ رگ گلو بھی ملےذرا سا لطف مگر ہم سے روبرو بھی ملے جو کوئی واقف آداب رنگ و بو بھی ملےتو اشک خوں میں بوئے زخم آرزو بھی ملے ہزار زخم کو کیا بے شمار زخم لگےاسی کے ساتھ مگر فرصت رفو بھی ملے یہ بت کدہ نہ سہی پھر

وہ دل میں اور قریب‌ رگ گلو بھی ملے Read More »

یادوں کا شہر دل میں چراغاں نہیں رہا

یادوں کا شہر دل میں چراغاں نہیں رہاکیا کوئی غم ہی شعلہ بداماں نہیں رہا اب اعتراف عہد وف کر رہے ہیں وہجب اعتبار عمر گریزاں نہیں رہا نکلے کچھ اور آبلہ پائی کی اب سبیلصحرا میں کوئی خار مغیلاں نہیں رہا بخیہ گریٔ دل کے تصور میں گم ہوئےگویا خیال جنبش مژگاں نہیں رہا

یادوں کا شہر دل میں چراغاں نہیں رہا Read More »

”کاں کاں” سے مری جان چھڑانے کے لیے آ

”کاں کاں” سے مری جان چھڑانے کے لیے آکوے کو بنیرے سے بھگانے کے لیے آ اک اونٹ مرے پاس ہے، جانا ہے کراچیہم دونوں کو رکشے میں بٹهانے کے لیئے آ میں ہجر کے گن گن کے بتاؤں گا فوائدتُو وصل کا نقصان بتانے کے لیے آ ہفتوں کے برابر ہے ترے پیار کا

”کاں کاں” سے مری جان چھڑانے کے لیے آ Read More »

جو برف زار چیر دے ایسی کرن بھی لا

جو برف زار چیر دے ایسی کرن بھی لاپتھر دلوں میں آج کوئی کوہ کن بھی لا اس طرح سرسری مرا باب وفا نہ لکھوقت شمار زخم مرا خستہ تن بھی لا منصف اگر بنا ہے تو سب کو گوارہ رکھانصاف ہے تو میرا پھٹا پیرہن بھی لا جلنے لگے ہیں پیاس سے پھولوں کے

جو برف زار چیر دے ایسی کرن بھی لا Read More »

ہنر کی کارگہ سے شے عجب نکل آئے

ہنر کی کارگہ سے شے عجب نکل آئےمیں دن بناتا رہوں اور وہ شب نکل آئے دلیل اپنی جگہ پر یہ عین ممکن ہےکہ بے سبب کا بھی کوئی سبب نکل آئے کوئی ستارہ تھا حیرت بھرا نظارہ تھاگھروں میں سوئے ہوئے لوگ سب نکل آئے نکلنا ہے اسی شب ماہ وصل نے لیکنیقیں سے

ہنر کی کارگہ سے شے عجب نکل آئے Read More »

اس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کی

اس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کیخلق اس کی ہے خدا اس کا خدائی اس کی کیا خبر تھی کہ یہیں وصل کے سائے کے قریبدھوپ کے بیچ پڑی ہوگی جدائی اس کی لے گئے شوق سے مرحوم کی ہر شے احبابچھوڑ دی طاق کے اوپر ہی اچھائی اس کی کی ہے افلاس

اس طرح کرتے ہیں کچھ لوگ بڑائی اس کی Read More »

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھامکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا تھی آرزو کہ رہوں جبر سے محاذ آرامیں ڈر گیا کہ یہ لمبا سفر اکیلا تھا نگاہ غیر جسے معتبر بہت ٹھہریاسے میں کیسے دکھاتا نگر اکیلا تھا کہاں تلک میں شجاعت کی داد دیتا یہاںکہ اس کی ساری

جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا Read More »