MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کرو نہ بات مگر نامہ و پیام تو لو

کرو نہ بات مگر نامہ و پیام تو لوکبھی کبھی نگہ شوق کا سلام تو لو ہے کون میری طرح تم کو چاہنے والامثال کے لیے تم ایک آدھ نام تو لو اگرچہ پینا پلانا ہے ناروا پھر بھیمئے خلوص و محبت کا ایک جام تو لو خراب حال ہوں ، ہوجائے اک نگاہِ کرمتم […]

کرو نہ بات مگر نامہ و پیام تو لو Read More »

آج پھر دِل میں اضطراب اٹھا

آج پھر دِل میں اضطراب اٹھاآج پھر درد بے حساب اٹھا کس قدر بڑھ رہی ہے تاریکیرُخ سے اپنے ذرا نقاب اٹھا دو قدم چال ہی قیامت ہےاور مت فتنۂ شباب اٹھا میں نے ہی تجھ سے بے وفائی کیلا اٹھا تو ذرا کتاب اٹھا نغمۂ زندگی کے تار بَجیںاے مری جاں ذرا رباب اٹھا

آج پھر دِل میں اضطراب اٹھا Read More »

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیے

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیےمجھ کو مری حیات کا مقصد بتائیے مجھ سے بھی کچھ حضور تعلق تھا آپ کایوں بے مروتی سے نہ دامن چھڑائیے شاید کسی مقام پہ میں کام آ سکوںمجھ کو بھی ساتھ لیجئے تنہا نہ جائیے گزرے گا اس طرف سے بھی اک دن ہجوم گلہر چند آپ راہ

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیے Read More »

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھاوہ دن بھی تھے میں ترے عشق کے نصاب میں تھا بھلا چکا ہے تو اک بار مجھ سے آ کر سنوہی سبق جو کبھی تیرے دل کے باب میں تھا جو آج مجھ سے بچھڑ کر بڑے سکون میں ہےکبھی وہ شخص مرے واسطے عذاب میں تھا

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا Read More »

باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیں

باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیںاس نگری کے سارے چہرے اپنے دیکھے بھالے ہیں نینوں میں کاجل کے ڈورے رُخ پہ زلف کے ہالے ہیںمن مایا کو لوٹنے والے کتنے بھولے بھالے ہیں تم پر تو اے ہم نفسو! کچھ جبر نہیں، تم تو بولوہم تو چپ سادھے بیٹھے ہیں اور

باتیں ہیں اُجلی اُجلی اور من اندر سے کالے ہیں Read More »

ہمسر ہے کون تیرا سارے جہان والے

ہمسر ہے کون تیرا سارے جہان والےسب ہیں ترے ثنا خواں ، اے آسمان والے ہر سمت ہیں بہاریں ، تیرے ہی دم قدم سےہر جا ہے فیض تیرا ، کون و مکان والے ربِ رحیم ہے تو ، کتنا کریم ہے تودر کے ترے گدا ہیں ، سب آن بان والے جینے کا کیا

ہمسر ہے کون تیرا سارے جہان والے Read More »

من بگھیا ما ساجن ناہیں راس نہ موہے رنگ

من بگھیا ما ساجن ناہیں راس نہ موہے رنگ دیوالی کے دیپ جلے ہوں یا ہولی کے رنگ ۔ جب پیتم سے نینا لاگے مانگ بھرا سندور ورنہ پھیکے پڑ جاتے تھے اس سے پہلے رنگ . اک کمرے میں عمر گزاری پر سوچیں متضاد دل ڈھونڈے احساس کے رشتے آنکھ تلاشے رنگ . تو

من بگھیا ما ساجن ناہیں راس نہ موہے رنگ Read More »

یقیناً کچھ بڑے عشاق کے رتبے گھٹے ہوں گے

یقیناً کچھ بڑے عشاق کے رتبے گھٹے ہوں گے ہماری دھول سے جب دشت کے ٹیلے اٹے ہوں گے ابھی دریاؤں سے اپنی زمینیں مت طلب کرنا ابھی سیلاب کے ریلے کہاں پیچھے ہٹے ہوں گے غریبوں کے مکانوں میں کوئی خامی تو رہتی ہے در و دیوار پختہ ہوں بھی تو پردے پھٹے ہوں

یقیناً کچھ بڑے عشاق کے رتبے گھٹے ہوں گے Read More »

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے کتنا دشوار کنیزوں کا کنوارا پن ہے ۔ یہ کسی ایک کہانی سے نہیں اَخذ شدہ جھوٹ تاریخ کا مجموعی کمینہ پن ہے ۔ اشک ہیں نُوری خزینوں کے نگینے جیسے تیرے غمگین کی آنکھوں میں اچھوتا پن ہے ۔ معذرت آپ کی آواز نہیں سُن پایا

کانپتے ہونٹ ہیں آواز میں دھیما پن ہے Read More »

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں جہاں مسائل کے بھید کرسی سے منسلک ہیں ہمارے پیروں میں بیڑیاں ہیں ملازمت کی ہمارے وعدے ہماری چھٹی سے منسلک ہیں اس ایک نکتے پہ ساری سائنس کھڑی ہوئی ہیں کہ فارمولے خدا کی مرضی سے منسلک ہیں تماش بینوں کی خواہشوں میں ہیں جسم رقصاں

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں Read More »