MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہےیہ سودا مجھ کو مہنگا پڑ رہا ہے مری ہر اک مسافت رائیگاں تھیمجھے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے سنا ہے ایک جادو ہے محبتیہ جادو ہے تو الٹا پڑ رہا ہے محبت ہے ہمیں اک دوسرے سےیہ آپس میں بتانا پڑ رہا ہے جو رہنا چاہتا ہے […]

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے Read More »

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گیاب مایا جال سے نکلوں گی اور جوگنیا کہلاؤں گی تو نے تو پریم کی کٹیا کو پل بھر میں جلا کر راکھ کیااب میری چتا تیار کرو میں ساتھ ستی ہو جاؤں گی یہ دنیا لوبھن ناری ہے ہنس ہنس کر سب سے

سب توڑ کے بندھن دنیا کے میں پیار کی جوت جگاؤں گی Read More »

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیںہمارے ساتھ چلو گرد رہ گزر ہم ہیں لکھی ہیں چہروں پہ جو سرخیاں پڑھو ان کوخبر ہو عام کہ دنیا سے با خبر ہم ہیں اکیلا پن ہمیں محسوس کب ہوا اب تککہ دشت دشت ہیں لیکن نگر نگر ہم ہیں گھنیرے سائے نہ ڈھونڈو یہیں پہ

سفر کی آخری منزل کے راہبر ہم ہیں Read More »

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہےاس کی آنکھوں سے اب میری موت کی خواہش جھانکتی ہے جسم کا جادو اس دنیا میں سر چڑھ کر جب بولتا ہےروح مری شرمندہ ہو کر اپنا چہرہ ڈھانپتی ہے اس کی جھولی میں سب کھوٹے سکے ڈالے جائیں گےجانتی ہے یہ اندھی بھکارن پھر

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے Read More »

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریںکوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں اے کم نصیب دل تو مگر چاہتا ہے کیاسنیاس لے لیں چھوڑ دیں گھر بار کیا کریں الجھا کے خود ہی زیست کے اک ایک تار کوخود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں اک عمر تک جو زیست

تنہا کھڑے ہیں ہم سر بازار کیا کریں Read More »

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤکوئی اب جاں بلب ہے مل جاؤ لوٹ کر اب نہ آ سکیں شایدیہ مسافت عجب ہے مل جاؤ دل دھڑکتے ہوئے بھی ڈرتا ہےکتنی سنسان شب ہے مل جاؤ اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھیدل کا جو حال اب ہے مل جاؤ خواہشیں بے سبب بھی ہوتی

تم سے رخصت طلب ہے مل جاؤ Read More »

وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگا

وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگاکہ آدمی تھا وہ باتوں سے ڈر گیا ہوگا تھی میں بھی اس پہ ہنسی مل کے اس جہاں کے ساتھیہ سن کے شرم سے شاید وہ مر گیا ہوگا ہزار بار سنا پھر بھی دل نہیں ماناکہ میرے پیار سے دل اس کا بھر گیا ہوگا نئے

وہاں بھی زہر زباں کام کر گیا ہوگا Read More »

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیںکہ دور دور کے منظر بہت قریب سے ہیں قبائے زر ہے انا کی اگرچہ زیب بدنمگر یہ اہل ہنر دل کے سب غریب سے ہیں یہاں تو سب ہی اشاروں میں بات کرتے ہیںعجیب شہر ہے اس کے مکیں عجیب سے ہیں میں زندگی میں مروں

یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں Read More »

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکاتنہا کبھی وہ انجمن آرا نہ مل سکا ہم پر تو جلد کھل گیا ساحل کا سب بھرماچھے رہے وہ جن کو کنارہ نہ مل سکا یک طرفہ رابطہ ہی نبھانا پڑا ہمیںان کی طرف سے کوئی اشارہ نہ مل سکا تم بھی قصوروار نہیں قصہ مختصرمیرا تمہارے

ذوق نظر کو اذن نظارہ نہ مل سکا Read More »

اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا

اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیامجھ کو جو مزا لذتِ گفتار سے آیا ہر چند تھا وہ سارے زمانے سے گریزاںپر میری طرف تیر کی رفتار سے آیا کس واسطے سمجھوں میں اسے جان کا دشمنجو شخص مرے پاس بڑے پیار سے آیا میں بن پیے مخمور تھا کچھ اس کی نظر سےکچھ

اقرار سے آیا ہے نہ انکار سے آیا Read More »