MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیے

تھوڑا سا مسکرا کے نگاہیں ملائیے
مجھ کو مری حیات کا مقصد بتائیے

مجھ سے بھی کچھ حضور تعلق تھا آپ کا
یوں بے مروتی سے نہ دامن چھڑائیے

شاید کسی مقام پہ میں کام آ سکوں
مجھ کو بھی ساتھ لیجئے تنہا نہ جائیے

گزرے گا اس طرف سے بھی اک دن ہجوم گل
ہر چند آپ راہ میں کانٹے بچھائیے

ناصرؔ اداسیاں تو رہیں گی یوں ہی مدام
ڈھلنے لگی ہے رات کوئی گیت گائیے

ناصر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم