MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری اس سے بہتر تھی کہیں دشت نوردی میری پھول ہوں برگ خزاں دیدہ کی تمثیل نہیں آپ سرسوں سے ملا سکتے ہیں زردی میری کوئی خورشید ہے اس شخص کی پیشانی میں ایک بوسے سے اتر جاتی ہے سردی میری تنگ دامن ہوں کہاں عرض_تمنا رکھوں […]

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری Read More »

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں دشت والے ہیں مگر نیل اٹھا لائے ہیں آپ کو آگ بجھانے کے لیے بھیجا تھا آپ نقصان کی تفصیل اٹھا لائے ہیں زندگی خانہ بدوشوں کی کوئی حالت تھی ہم تجھے پھر بھی کئی میل اٹھا لائے ہیں پھول ہوتے ہیں امر پیر پکڑ کر اس کے

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں Read More »

کسی کے پاس کوئی دوسری مثال نہیں

کسی کے پاس کوئی دوسری مثال نہیں یہ کائنات کسی ہاتھ کا کمال نہیں ہم اہلِ مصر نہیں ہیں حضور سندھی ہیں ہمارے قحط کی میعاد سات سال نہیں ملنگ خود پہ ضرورت کا بوجھ لادے ہوئے زمین پیٹ رہے ہیں کوئی دھمال نہیں اٹھارہ سال سے بھوکی ہے اور پیاسی بھی ہمارے دل میں

کسی کے پاس کوئی دوسری مثال نہیں Read More »

جو طبیعت سے کھیل سکتا ہے

جو طبیعت سے کھیل سکتا ہے جارحیت سے کھیل سکتا ہے حوصلہ اس ہنر کو کہتے ہیں جو اذیت سے کھیل سکتا ہے فاقہ کش شان بے نیازی میں آمریت سے کھیل سکتا ہے یہ شرف آدمی کو حاصل ہے آدمیت سے کھیل سکتا ہے واقفِ حال بھی مصیبت میں واقفیت سے کھیل سکتا ہے

جو طبیعت سے کھیل سکتا ہے Read More »

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے سرخئ شام ترے گال بنا دیتی ہے بیٹھ جاتے ہیں ملنگ اپنی کہانی لے کر بھوک درگاہوں کو چوپال بنا دیتی ہے اس لیے تم کو پریشان نہیں لگتا ہوں ماں کی عادت ہے مرے بال بنا دیتی ہے جانے والے ابھی اوجھل نہیں ہونے پاتے دھول

ہجر زادوں کو بھی خوشحال بنا دیتی ہے Read More »

اک مشورہ تو دے مجھے عرصے سے تنگ ہوں

اک مشورہ تو دے مجھے عرصے سے تنگ ہوں خیمہ الگ لگا لوں؟ قبیلے سے تنگ ہوں ملتے ہیں روز صحن میں کچھ دل پڑے ہوئے پیپل کے پیڑ تیرے رویے سے تنگ ہوں میرے بنائے رنگ دھنک نے چرا لیے اک تو میں آسمانی دوپٹے سے تنگ ہوں اب اور یہ تماشا نہیں دیکھنا

اک مشورہ تو دے مجھے عرصے سے تنگ ہوں Read More »

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نے

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نےایک چہرے پہ کئی چہرے لگائے ہم نے اس تمنا میں کہ اس راہ سے تو گزرے گادیپ ہر راہ میں ہر رات جلائے ہم نے دل سے نکلی نہ خراش غم ایام کی دھوپتیرے ناخن سے کئی چاند بنائے ہم نے دامن یار نے حق اپنا

بھیس کیا کیا نہ زمانے میں بنائے ہم نے Read More »

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوں

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوںاب خاک رہ کاہکشاں چھان رہا ہوں اصنام سے دیرینہ تعلق کی بدولتمیں کفر کا ہر دور میں ایمان رہا ہوں دنیا سے لڑائی تو ازل ہی سے رہی ہےاب خود سے جھگڑنے کی بھی میں ٹھان رہا ہوں اب تک تو شب و روز کچھ اس طرح

ہر بات تری جان جہاں مان رہا ہوں Read More »

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہے

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہےوہ کیف تازہ بھی ہے نشۂ کہن بھی ہے مجھے تو چین سے رہنے دے اے دل وحشیکہ دشت بھی ہے ترے سامنے چمن بھی ہے کہاں کی منزل مقصود راستہ بھی نہیںسفر میں ساتھ خدا بھی ہے اہرمن بھی ہے وہ ایک لمحہ پراں وہ ایک

جو تیرے حسن میں نرمی بھی بانکپن بھی ہے Read More »

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنے

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنےتو نہیں ہے تو دو عالم بھی نہیں ساتھ اپنے ساتھ کچھ دور ترے ہم بھی گئے تھے لیکناب کہاں جائیں کہ خود ہم بھی نہیں ساتھ اپنے وہ بھی اک وقت تک خورشید بکف پھرتے تھےیہ بھی اک وقت ہے شبنم بھی نہیں ساتھ اپنے ناخن وقت

کوئی دشمن کوئی ہمدم بھی نہیں ساتھ اپنے Read More »