ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری
ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری اس سے بہتر تھی کہیں دشت نوردی میری پھول ہوں برگ خزاں دیدہ کی تمثیل نہیں آپ سرسوں سے ملا سکتے ہیں زردی میری کوئی خورشید ہے اس شخص کی پیشانی میں ایک بوسے سے اتر جاتی ہے سردی میری تنگ دامن ہوں کہاں عرض_تمنا رکھوں […]
ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری Read More »