MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میںبے بسی تو ہی بتا خود کو کہاں پاؤں میں بے گھری مجھ سے پتہ پوچھ رہی ہے میرادر بدر پوچھتا پھرتا ہوں کہاں جاؤں میں زخم کی بات بھی ہوتی تو کوئی بات نہ تھیدل نہیں پھول کہ ہر شخص کو دکھلاؤں میں زندگی کون سے ناکردہ […]

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں Read More »

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئےیہی بہت ہے کہ آنکھوں میں کچھ نمی آئے اندھیری رات میں کاسہ بدست بیٹھا ہوںنہیں یہ آس کہ آنکھوں میں روشنی آئے ملے وہ ہم سے مگر جیسے غیر ملتے ہیںوہ آئے دل میں مگر جیسے اجنبی آئے خود اپنے حال پہ روتی رہی ہے یہ

نہیں جو تیری خوشی لب پہ کیوں ہنسی آئے Read More »

نظام شمس و قمر کتنے دست خاک میں ہیں

نظام شمس و قمر کتنے دست خاک میں ہیںزمانے جیسے تری چشم خوابناک میں ہیں شراب‌ و شعر میں عریاں تو ہو گئے لیکنفضائے ذات کے پردے ہر ایک چاک میں ہیں شگفت لالہ و گل میں بھی سب کہاں نکھرےنہ جانے کتنے شہیدوں کے خواب خاک میں ہیں ترا وصال زمستاں کی رات ہو

نظام شمس و قمر کتنے دست خاک میں ہیں Read More »

پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی

پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئیکعبہ و دیر سے مطلب نہیں ہوتا کوئی سچ تو یہ ہے کہ میں ہر بزم میں تنہا ہی رہایوں مگر پاس مرے کب نہیں ہوتا کوئی جان و ایماں سہی سب کچھ سہی تو مرے لیےہائے کس منہ سے کہوں سب نہیں ہوتا کوئی ایک سایہ تھا

پیار کا درد کا مذہب نہیں ہوتا کوئی Read More »

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوں

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوںترے دامن پہ آنسو کی نمی ہوں میں اپنے شہر میں تو اجنبی تھامیں اپنے گھر میں بھی اب اجنبی ہوں کہاں تک مجھ کو سلجھاتے رہو گےبہت الجھی ہوئی سی زندگی ہوں خبر جس کی نہیں باہر کسی کومیں تہ خانے کی ایسی روشنی ہوں تھکن سے

ترا دل تو نہیں دل کی لگی ہوں Read More »

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گا

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گاازل سے لے کے ابد تک میں ٹوٹ جاؤں گا خبر نہیں ہے کسی کو بھی خستگی کی مریمجھے نہ ہاتھ لگاؤ کہ ٹوٹ جاؤں گا تمہاری میری رفاقت ہے چند قوموں تکتمہارے پاؤں کا چھالا ہوں پھوٹ جاؤں گا ہزار ناز سہی مجھ کو اپنی قسمت پرحنائے

تمہاری قید وفا سے جو چھوٹ جاؤں گا Read More »

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہے

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہےہم نے ہر سانس پہ مرنے کی سزا پائی ہے کیسا پیغام کہاں سے یہ صبا لائی ہےشاخ گل صبح بہاراں ہی میں مرجھائی ہے دل کے آباد خرابے میں نہ شب ہے نہ سحرچاندنی لے کے تری یاد کہاں آئی ہے تو مرے چاک گریباں سے تو

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہے Read More »

ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں

ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاںنعت کے شعر کہیں اور سے آتے ہیں میاں رنگ مضموں تو ہے منت کش جبریل کہ ہمسادے کاغذ پہ لکریں سی بناتے ہیں میاں تم جو چاہو اسے معراج کہو تو کہہ لومیرے آقا تو وہاں سیر کو جاتے ہیں میاں ہم کو پاپوش مقدس کی زیارت

ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں Read More »

سحرعرب، فسونِ عجم بیچئے حضور

سحرعرب، فسونِ عجم بیچئے حضوربازارِ منفعت ہے، قلم بیچئے حضور انبوہِ مفلساں کو قناعت کے نام پرافسانۂ وجود و عدم بیچئے حضور مشکل نہیں مداوا غمِ روزگار کانامِ خدا، خدا کی قسم بیچئے حضور تعمیر کیجئے کسی قاتل کا مقبرہحوریں فروخت کیجے، ارم بیچئے حضور مسلم پھنسے تو اس کو خدا بیچ دیجئےہندو پَٹے تو

سحرعرب، فسونِ عجم بیچئے حضور Read More »

کبھی خاک ہوئے ان قدموں کی، کبھی دل کو بچھا کر رقص کیا

کبھی خاک ہوئے ان قدموں کی، کبھی دل کو بچھا کر رقص کیااسے دیکھا خود کو بھول گئے، لہر ا لہرا کر رقص کیا ترے ہجر کی آگ میں جلتے تھے، ہم انگاروں پر چلتے تھےکبھی تپتی ریت پہ ناچے ہم، کبھی خود کو جلا کر رقص کیا کیا خوب مزا تھا جینے میں، اک

کبھی خاک ہوئے ان قدموں کی، کبھی دل کو بچھا کر رقص کیا Read More »