MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں

میرا سایہ ہے مرے ساتھ جہاں جاؤں میں
بے بسی تو ہی بتا خود کو کہاں پاؤں میں

بے گھری مجھ سے پتہ پوچھ رہی ہے میرا
در بدر پوچھتا پھرتا ہوں کہاں جاؤں میں

زخم کی بات بھی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی
دل نہیں پھول کہ ہر شخص کو دکھلاؤں میں

زندگی کون سے ناکردہ گنہ کی ہے سزا
خود نہیں جانتا کیا اوروں کو بتلاؤں میں

ایک حمام میں تبدیل ہوئی ہے دنیا
سب ہی ننگے ہیں کسے دیکھ کے شرماؤں میں

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم