MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے

سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائے
کیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائے

ہائے رے ان کے فریبِ وعدۂ فردا کا حال
دیکھتے ہی دیکھتے اک در بنے اور ٹوٹ جائے

حادثوں کی ٹھوکروں سے چُور ہونا ہے تو پھر
کیوں نہ خاموشی سے دل ساغر بنے اور ٹوٹ جائے

ہم بھی لے لیں لطفِ تیرِ نیم کش گر وہ نظر
آتے آتے قلب تک خنجر بنے اور ٹوٹ جائے

ان کے دامن کی ہوا بھی کس کو ہوتی ہے نصیب
آج ہر آنسو مرا گوہر بنے اور ٹوٹ جائے

یوں بکھرتا ہی رہا اے طرزؔ ہر سپنا مرا
صبح جیسے خواب کا منظر بنے اور ٹوٹ جائے

گنیش بہاری طرز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم