MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کا

تو آیا تو دوار بھڑے تھے دیپ بجھا تھا آنگن کا
سدھ بسرانے والے مجھ کو ہوش کہاں تھا تن من کا

جانے کن زلفوں کی گھٹائیں چھائی ہیں میری نظروں میں
روتے روتے بھیگ چلا اس سال بھی آنچل ساون کا

تھوڑی دیر میں تھک جائیں گے نیل کمل سی رین کے پاؤں
تھوڑی دیر میں تھم جائے گا راگ ندی کے جھانجھن کا

پھر بھی میری بانہوں کی خوشبو ہر ڈال پہ لچکے گی
ہر تارا ہیرا سا لگے گا مجھ کو میرے کنگن کا

تم آؤ تو گھر کے سارے دیپ جلا دوں لیکن آج
میرا جلتا دل ہی اکیلا دیپ ہے میرے آنگن کا

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم