ہر کسی سے نہ احتراز کرو
ہر کسی سے نہ احتراز کرودوست دشمن میں امتیاز کرو غیر اپنے کبھی نہیں ہوتےکیوں انہیں آشنائے راز کرو جب کسی دل میں گھر بنانا ہوپہلے نظروں سے ساز باز کرو تم کہاں وہ نگۂ ناز کہاںاپنی خوش فہمیوں پہ ناز کرو سرفرازی اسے نہیں کہتےسرفرازوں کو سرفراز کرو کیا تقاضے ہیں وقت کے سرشارؔسوز […]
ہر کسی سے نہ احتراز کرو Read More »