MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر کسی سے نہ احتراز کرو

ہر کسی سے نہ احتراز کرودوست دشمن میں امتیاز کرو غیر اپنے کبھی نہیں ہوتےکیوں انہیں آشنائے راز کرو جب کسی دل میں گھر بنانا ہوپہلے نظروں سے ساز باز کرو تم کہاں وہ نگۂ ناز کہاںاپنی خوش فہمیوں پہ ناز کرو سرفرازی اسے نہیں کہتےسرفرازوں کو سرفراز کرو کیا تقاضے ہیں وقت کے سرشارؔسوز […]

ہر کسی سے نہ احتراز کرو Read More »

جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں

جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میںانسان وہ کیا مر مٹنے کا احساس نہ ہو جس کے دل میں ہنسنے کا طریقہ پیدا کر رونے کا سلیقہ پیدا کرہنس پھول کی صورت گلشن میں رو شمع کی صورت محفل میں قاتل کے دل کی کمزوری نے سارا کام بگاڑ دیاہم

جب قوم پر آفت آئی ہو جب ملک پڑا ہو مشکل میں Read More »

کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظ

کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظکسی کو نہیں جب ہمارا لحاظ مساوات اس چیز کا نام ہےکہ اٹھ جائے چھوٹے بڑے کا لحاظ لحاظ اس کا کچھ تم کو بھی چاہئےکیا ہم نے کتنا تمہارا لحاظ کسی کی کوئی بات سنتا نہیںکسی کو نہیں اب کسی کا لحاظ کھری بات کہنے کے عادی ہیں

کریں کس لیے ہم کسی کا لحاظ Read More »

سجدہ اور ان کے آستانے کا

سجدہ اور ان کے آستانے کاحوصلہ دیکھیے زمانے کا آزمائیں گے دھار خنجر کییہ بہانہ ہے خوں بہانے کا دل سادہ کی سادگی دیکھواعتبار اور پھر زمانے کا کس مزے سے قفس میں اہل قفسذکر سنتے ہیں آشیانے کا ساتھ چلنا ہے جب زمانے کےشکوہ کیوں کیجئے زمانے کا وہ زمانہ ابھی نہیں آیاخواب دیکھا

سجدہ اور ان کے آستانے کا Read More »

تیری رحمت نے کر دیا گستاخ

تیری رحمت نے کر دیا گستاخورنہ پہلے تو میں نہ تھا گستاخ آپ جو کچھ کہیں سر آنکھوں پراور میں نے جو کچھ کہا گستاخ صاف گوئی سے کام لیتا ہوںتم نے مجھ کو سمجھ لیا گستاخ کاٹ دیتے وہ کیوں نہ ہاتھ مراان کے دامن پہ بڑھ چلا گستاخ کھل گئی آنکھ اب تو

تیری رحمت نے کر دیا گستاخ Read More »

زندگی چین پا نہیں سکتی

زندگی چین پا نہیں سکتیموت کو موت آ نہیں سکتی پھونک سکتی ہے برق گلشن کوپھول اس میں کھلا نہیں سکتی توڑ دیتی ہے موت ساز حیاتلیکن اس کو بجا نہیں سکتی تم نہ چاہو تو یہ نسیم بہارگل چمن میں کھلا نہیں سکتی زندگی لاکھ تابدار سہیموت کی تاب لا نہیں سکتی ہم پہ

زندگی چین پا نہیں سکتی Read More »

دل اپنا صید تمنا ہے دیکھیے کیا ہو

دل اپنا صید تمنا ہے دیکھیے کیا ہوہوس کو عشق کا سودا ہے دیکھیے کیا ہو کسی کے لمحۂ الفت کی یاد کیف آوردل حزیں کا سہارا ہے دیکھیے کیا ہو بچا بچا کے رکھا تھا جسے وہی کشتیسپرد‌ موجۂ دریا ہے دیکھیے کیا ہو سکوت بت کدۂ آذری سے تنگ آ کرخدا کو میں

دل اپنا صید تمنا ہے دیکھیے کیا ہو Read More »

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلےمگر اک جرم کی پاداش میں جنت سے ہم نکلے غم‌ دنیا و دیں ان کو نہ فکر نیک و بد ان کومحبت کرنے والے بے نیاز بیش و کم نکلے غرض کعبہ سے تھی جن کو نہ تھا مطلب کلیسا سےحد دیر و حرم سے بھی وہ

فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے Read More »

گو آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراغاں بھی

گو آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراغاں بھیتخریب میں شامل ہے تعمیر کا ساماں بھی مظہر ترے جلووں کے مامن مری وحشت کےکہسار و گلستاں بھی صحرا و بیاباں بھی دم توڑتی موجیں کیا ساحل کا پتہ دیں گیٹھہری ہوئی کشتی ہے خاموش ہے طوفاں بھی مجبور غم دنیا دل سے تو کوئی پوچھےاحساس کی

گو آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراغاں بھی Read More »

حسن ہے محبت ہے موسم بہاراں ہے

حسن ہے محبت ہے موسم بہاراں ہےکائنات رقصاں ہے زندگی غزل خواں ہے عشرتوں کے متلاشی غم سے کیوں گریزاں ہےتیرگی کے پردے میں روشنی کا ساماں ہے گیت ہیں جوانی ہے ابر ہے بہاریں ہیںمضطرب ادھر میں ہوں تو ادھر پریشاں ہے دھوپ ہو کہ بارش ہو تو ہے مونس و ہمدممجھ پہ یہ

حسن ہے محبت ہے موسم بہاراں ہے Read More »