MOJ E SUKHAN

دل اپنا صید تمنا ہے دیکھیے کیا ہو

دل اپنا صید تمنا ہے دیکھیے کیا ہو
ہوس کو عشق کا سودا ہے دیکھیے کیا ہو

کسی کے لمحۂ الفت کی یاد کیف آور
دل حزیں کا سہارا ہے دیکھیے کیا ہو

بچا بچا کے رکھا تھا جسے وہی کشتی
سپرد‌ موجۂ دریا ہے دیکھیے کیا ہو

سکوت بت کدۂ آذری سے تنگ آ کر
خدا کو میں نے پکارا ہے دیکھیے کیا ہو

شکیب و صبر کا پیمانہ ٹوٹنے پر بھی
وہی وفا کا تقاضا ہے دیکھیے کیا ہو

ہزار بار ہی دیکھا ہے سوچنے کا مآل
ہزار بار ہی سوچا ہے دیکھیے کیا ہو

ضیاؔ جو پی کے نہ بہکا وہ رند مے خانہ
پیے بغیر بہکتا ہے دیکھیے کیا ہو

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم