MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہوہوس نے عشق کو گھیرا ہے دیکھیے کیا ہو گئی بہار مگر آج بھی بہار کی یاددل حزیں کا سہارا ہے دیکھیے کیا ہو خموش شمع محبت ہے پھر بھی حسن کی ضوگلوں سے تا بہ ثریا ہے دیکھیے کیا ہو شب فراق کی بڑھتی ہوئی سیاہی […]

جنوں پہ عقل کا سایا ہے دیکھیے کیا ہو Read More »

لب پر دل کی بات نہ آئی

لب پر دل کی بات نہ آئیواپس بیتی رات نہ آئی خشک ہوئیں رو رو کر آنکھیںمدھ ماتی برسات نہ آئی میری شب کی تاریکی میںتاروں کی سوغات نہ آئی مے خانے کی مست فضا میںراس مجھے ہیہات نہ آئی دل تو امڈا رو نا سکا میںچھائی گھٹا برسات نہ آئی میرا چاند نکلنے کو

لب پر دل کی بات نہ آئی Read More »

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوںغرقاب سفینوں کے سسکنے کی صدا ہوں اک خاک بہ سر برگ ہوں ٹہنی سے جدا ہوںجوڑے گا مجھے کون کہ میں ٹوٹ گیا ہوں اب بھی مجھے اپنائے نہ دنیا تو کروں کیاماحول سے پیمان وفا باندھ رہا ہوں مستقبل بت خانہ کا حافظ ہے خدا ہیہر

لو آج سمندر کے کنارے پہ کھڑا ہوں Read More »

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیں

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیںملا کے آنکھ چرانا کوئی مذاق نہیں پہاڑ کاٹ تو سکتا ہے تیشۂ فرہادپہاڑ سر پہ اٹھانا کوئی مذاق نہیں اڑانیں بھرتے رہیں لاکھ طائران خیالستارے توڑ کے لانا کوئی مذاق نہیں لہو لہو ہے جگر داغ داغ ہے سینہیہ دو دلوں کا فسانہ کوئی مذاق نہیں ہوائیں آج

نظر نظر سے ملانا کوئی مذاق نہیں Read More »

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا

رگ احساس میں نشتر ٹوٹاہاتھ سے چھوٹ کے ساغر ٹوٹا ٹوٹنا تھا دل نازک کو نہ پوچھکب کہاں کس لئے کیوں کر ٹوٹا سینہ دھرتی کا لرز اٹھا ہےآسماں سے کوئی اختر ٹوٹا جھک گیا پائے بتاں پر لیکنپتھروں سے نہ مرا سر ٹوٹا سخت جانی مری توبہ توبہقتل کرتے تھے کہ خنجر ٹوٹا اشک

رگ احساس میں نشتر ٹوٹا Read More »

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گی

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گیچمن گرفت خزاں میں ہوگا بہار اجڑی ہوئی ملے گی جواں ہے ہمت ہے عزم محکم نظر اٹھائیں تو اہل دانشالم کے تاریک افق پہ روشن شعاع امید بھی ملے گی تصور اس ماہرو کا ہوگا کبھی تو دل میں ضیا بدامنکبھی تو ظلمت

مرے جنوں میں مری وفا میں خلوص کی جب کمی ملے گی Read More »

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھے

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھےکیوں نہ کر جاتا بھری محفل میں دل تنہا مجھے شاخ در شاخ اب کوئی ڈھونڈا کرے پتہ مجھےمیں تو خود ٹوٹا ہوں آندھی نے نہیں توڑا مجھے لغزش پا نے دیا ہر راہ میں دھوکا مجھےتا در منزل تو ہی اے جذب دل پہنچا مجھے

تو نے نظروں کو بچا کر اس طرح دیکھا مجھے Read More »

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہواجیسے درخت سے کوئی پتا گرا ہوا ہو ہی گیا ہے نبض شناس غم جہاںسینے میں عشق کے مرا دل کانپتا ہوا ملتا سراغ خاک مجھے میرے سائے کاہر سمت ظلمتوں کا تھا جنگل اگا ہوا کل رات خواب میں جو مقابل تھا آئنہمیرا ہی قد مجھے

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا Read More »

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیےپوری دل کی یہی جستجو کیجیے آپ کی دشمنی کا میں ہوں معترفوار کیجے مگر دو بدو کیجیے دامن دل کی لاکھوں ہوئیں دھجیاںکیجیے کیجیے اب رفو کیجیے پھول موسم میں کانٹوں کے بیوپار سےجسم و جان و جگر مت لہو کیجیے زندگی ہو مگر درد ہجراں نہ ہوایسے

ہم سے مل کر کوئی گفتگو کیجیے Read More »

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوں

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوںخود کو بھیگی ہوئی راتوں میں اکیلا سمجھوں نام لکھوں میں ترا دور خلاؤں میں کہیںاور ہر لفظ کو پھر چاند سے پیارا سمجھوں یاد کی جھیل میں جب عکس نظر آئے تراآنکھ سے اشک بھی ٹپکے تو ستارا سمجھوں دستکیں دیتا رہا رات جو گلیوں میں اسےذہن

جب تری ذات کو پھیلا ہوا دریا سمجھوں Read More »