MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہےورنہ آرائش افکار میں کیا رکھا ہے ہے ترا عکس ہی آئینۂ دل کی زینتایک تصویر سے البم کو سجا رکھا ہے برگ صد چاک کا پردہ ہے شگفتہ گل سےقہقہوں سے کئی زخموں کو چھپا رکھا ہے اب نہ بھٹکیں گے مسافر نئی نسلوں کے کبھیہم […]

تیری خاطر یہ فسوں ہم نے جگا رکھا ہے Read More »

وہ روز و شب بھی نہیں ہے وہ رنگ و بو بھی نہیں

وہ روز و شب بھی نہیں ہے وہ رنگ و بو بھی نہیںوہ بزم جام و سبو بھی نہیں وہ تو بھی نہیں نہ دل دھڑکتے ہیں مل کر نہ آنکھیں جھکتی ہیںلہو کی گردشیں اب مثل آب جو بھی نہیں کبھی کبھی کی ملاقات تھی سو وہ بھی گئیتری نگاہ کا رنگ بہانہ جو

وہ روز و شب بھی نہیں ہے وہ رنگ و بو بھی نہیں Read More »

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیےجیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے دیکھ یوں وقت کی دہلیز سے ٹکرا کے نہ گرراستے بند نہیں سوچنے والوں کے لیے آؤ تعمیر کریں اپنی وفا کا معبدہم نہ مسجد کے لیے ہیں نہ شوالوں کے لیے سالہا سال عقیدت سے کھلا رہتا ہےمنفرد راہوں کا

یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے Read More »

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگااسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا ابھی تو ہم نفسوں کو ہے وہم چارہ گریہوئی نہ درد میں پھر بھی کمی تو کیا ہوگا یہ تیرگی تو بہر حال چھٹ ہی جائے گینہ راس آئی ہمیں روشنی تو کیا ہوگا امید ہے کہ کبھی تو لبوں

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا Read More »

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہےیار جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے دل بیتاب کو پہلو میں مچلتے کیا دیرسن لے اتنا کسی کافر کا جمال اچھا ہے بات الٹی وہ سمجھتے ہیں جو کچھ کہتا ہوںاب کے پوچھا تو یہ کہہ دوں گا کہ حال اچھا ہے صحبت

نہ خوشی اچھی ہے اے دل نہ ملال اچھا ہے Read More »

نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوں

نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوںنئی اس بزم سے میں زندگانی لے کے آیا ہوں کچھ اپنی ناتوانی کچھ ترا پاس نزاکت تھانگاہوں میں محبت کی کہانی لے کے آیا ہوں ترے جلوے کے نظارے کو خالی ہاتھ کیا آتالٹانے کو بہار نوجوانی لے کے آیا ہوں لبوں پر مہر خاموشی ہے

نیا سودا نیا درد نہانی لے کے آیا ہوں Read More »

راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کر

راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کرگردش میں ہوں میں گردش پیمانہ چھوڑ کر خم میں سبو میں جام میں نیت لگی رہیمے خانے ہی میں ہم رہے مے خانہ چھوڑ کر آنکھوں کو چھوڑ جاؤں الٰہی میں کیا کروںہٹتی نہیں نظر رخ جانانہ چھوڑ کر آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش

راحت نہ مل سکی مجھے مے خانہ چھوڑ کر Read More »

ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر

ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کرہمارے باغ ہستی میں بہار آئی خزاں ہو کر جوانی کی دعائیں مانگی جاتی تھیں لڑکپن میںلڑکپن کے مزے اب یاد آتے ہیں جواں ہو کر خدا رکھے دل مایوس میں امید باقی ہےیہی گل ہے جو بو دیتا ہے پامال خزاں ہو کر مجھے شبنم بنا

ستم ہے مبتلائے عشق ہو جانا جواں ہو کر Read More »