MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا

یہی ہے دور غم عاشقی تو کیا ہوگا
اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

ابھی تو ہم نفسوں کو ہے وہم چارہ گری
ہوئی نہ درد میں پھر بھی کمی تو کیا ہوگا

یہ تیرگی تو بہر حال چھٹ ہی جائے گی
نہ راس آئی ہمیں روشنی تو کیا ہوگا

امید ہے کہ کبھی تو لبوں پہ آئے گی
کبھی نہ آئی لبوں پر ہنسی تو کیا ہوگا

نفس نفس میں فغاں ہے نظر نظر میں ہراس
کچھ اور دن یہی حالت رہی تو کیا ہو گا

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم