MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے

یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہےکہ تیرے دیکھنے کو آنکھ مدت سے ترستی ہے بنے ہیں جب سے وہ ساقی مزے کی مے پرستی ہےادھر مے ہے پیالوں میں ادھر آنکھوں میں مستی ہے تری آنکھوں کے صدقے ایک دنیا ان میں بستی ہےفسوں ہے سحر ہے اعجاز ہے شوخی […]

یہ کہنا اس سے اے قاصد جو محو خود پرستی ہے Read More »

وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے

وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہےقمر بھی ہے مرے پہلو میں آفتاب بھی ہے یہ حسن کی نہیں جادوگری تو پھر کیا ہےکہ تیری آنکھ میں شوخی بھی ہے حجاب بھی ہے کسی کو تاب کہاں ہے کہ تجھ کو دیکھ سکےجو نور ہے ترے رخ پر وہی نقاب بھی ہے ثبوت

وصال یار بھی ہے دور میں شراب بھی ہے Read More »

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہاتم گلے سے کیا ملے سارا گلہ جاتا رہا یار تک پہنچا دیا بیتابی دل نے ہمیںاک تڑپ میں منزلوں کا فاصلہ جاتا رہا ایک تو آنکھیں دکھائیں پھر یہ شوخی سے کہاکہیے اب تو کم نگاہی کا گلہ جاتا رہا روز جاتے تھے خط اپنے روز آتے

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا Read More »

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیںجان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں جان ہم سبزۂ خط پر دے کرزہر کے گھونٹ پیے بیٹھے ہیں دل کو ہم ڈھونڈتے ہیں چار طرفاور یہاں آپ لیے بیٹھے ہیں واعظو چھیڑو نہ رندوں کو بہتیہ سمجھ لو کہ پیے بیٹھے ہیں گوشے آنچل کے ترے سینے پرہائے کیا

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں Read More »

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلےدیکھنا آگ لگی پھر اسی گھر سے پہلے جیسے جیسے در دل دار قریب آتا ہےدل یہ کہتا ہے کہ پہنچوں میں نظر سے پہلے نامۂ یار پڑھوں میں ابھی جلدی کیا ہےنامہ بر کو تو لگا لوں میں جگر سے پہلے بے حجابی جو سہی ہے

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے Read More »

ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی

ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گیپتھر کی چوٹ دل سے اٹھائی نہ جائے گی ہونے دو ہو رہے ہیں جو الفت کے تذکرےبگڑوگے تم تو بات بنائی نہ جائے گی کہہ دو یہ شمع سے کہ عبث تو ہے اشک بارپانی سے دل کی آگ بجھائی نہ جائے گی چلمن ہو یا نقاب

ظالم بتوں سے آنکھ لگائی نہ جائے گی Read More »

چیختا ہوں کان میں نشہ اتر جانے کے بعد

Cheekhta hoon kaan main Nasha uter janay kay baad غزل چیختا ہوں کان میں نشہ اتر جانے کے بعدیعنی وہ ہوتا ہے جو ہوتا ہے مرجانے کے بعد روز کستا ہوں طنابیں خیمہِ امید کیہے یہی مصروفیت خود سے مکر جانے کے بعد زندگی تیری کہانی کا میں وہ کردار ہوںجو سمجھ آئے گا دنیا

چیختا ہوں کان میں نشہ اتر جانے کے بعد Read More »

کھینچا ہے میں نے اپنے لیے بھی حصار سا

چاروں طرف خلا میں ہے گہرا غبار ساپھر بھی کہیں پہ ہے یوں ہی کچھ آشکار سا کیا پھوٹتا ہے دل کی زمیں سے برنگ غمکیا تیرتا ہے آنکھ میں نقش بہار سا بکھرے ہیں میرے گرد نشان قدم مرےکھینچا ہے میں نے اپنے لیے بھی حصار سا فرصت جو ہو تو کھل کے برس

کھینچا ہے میں نے اپنے لیے بھی حصار سا Read More »

بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو

بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کوگیا وہ دور کہ تھی فکر آشیاں اس کو کیا ہے سلطنت دل پہ حکمراں اس کونوازشوں کا سلیقہ مگر کہاں اس کو شگاف زخم جو میرا نہ کھل گیا ہوتاتو کیسے ملتی یہ شمشیر کہکشاں اس کو جدھر بھی جاتا ہے وہ شعلۂ بہار سرشتدعائیں دیتا

بہت ہے اب مری آنکھوں کا آسماں اس کو Read More »