MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہیدیکھا اسے تو اپنی خبر تک نہیں رہی احساس پر گراں رہا احساس کا طلسمیہ عمر کی تکان سفر تک نہیں رہی جن پر تمہارے آنے سے کھلتے رہے گلاباب دل میں ایسی راہ گزر تک نہیں رہی اک دن وہ گھر سے نکلے نہیں سیر کے […]

جلوہ ہے وہ کہ تاب نظر تک نہیں رہی Read More »

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیںسخاۓ ہجر نے اب بھی نمائشیں دی ہیں یہ اب جو خواب زمانوں نے دستکیں دی ہیںپس مراد حقائق کی منزلیں دی ہیں مرے لباس کے پیوند مفلسی پہ نہ جامرے جنوں نے محبت کو خلعتیں دی ہیں مرے مزاج کا موسم عجیب موسم ہےکہ جس کے غم نے بھی

خیال آتشیں خوابیدہ صورتیں دی ہیں Read More »

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکے

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکےزعم باطل میں تاجور بھٹکے خود سری میں جو معتبر بھٹکےہم سفر ان کے بے خبر بھٹکے فن کی پگڈنڈیوں پہ چلتے ہوئےکبھی بھٹکے تو بے ہنر بھٹکے ہم جو بھٹکے تو نا شناسا تھےراہبر کیوں ادھر ادھر بھٹکے ایک عالم کو جس نے بھٹکایاکبھی یوں ہو کہ وہ نظر

شہر در شہر دیدہ ور بھٹکے Read More »

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیا

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیاسحر سائے بعید ہو گئے کیا درد کن سے کشید ہو گئے کیاخواب شب سے خرید ہو گئے کیا زندگی کیوں ہے لرزہ بر اندامزلزلے بھی شدید ہو گئے کیا کوئی باقی نہیں طلسم جمالعشق والے شہید ہو گئے کیا ادب آداب کے زمانے گئےسلسلے کچھ مزید ہو گئے

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیا Read More »

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کےکہ میں جہاں سے ہوں اترا خدا خدا کر کے ازل سے مجھ سے ہے وابستہ خیر و شر کا نظامنہ دیکھو مجھ کو مری ذات سے جدا کر کے میں جانتا ہوں مقفل ہیں سارے دروازےمجھے یہ ضد ہے کہ گزروں مگر صدا کر کے میں

اس اوج پر نہ اچھالو مجھے ہوا کر کے Read More »

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتےآنکھ میں رنگ تماشا نہیں رہنے دیتے چہچہاتے ہوئے پنچھی کو اڑا دیتے ہیںکسی سر میں کوئی سودا نہیں رہنے دیتے روشنی کا کوئی پرچم جو اٹھا کر نکلےاس طرح دار کو زندہ نہیں رہنے دیتے کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہےجیسا چاہے کوئی ویسا

کوئی منظر بھی سہانا نہیں رہنے دیتے Read More »

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہےہر شاخ پہ غنچے کی جگہ زخم کھلا ہے دو گھونٹ پلا دے کوئی مے ہو کہ ہلاہلوہ تشنہ لبی ہے کہ بدن ٹوٹ رہا ہے اس رند سیہ مست کا ایمان نہ پوچھوتشنہ ہو تو مخلوق ہے پی لے تو خدا ہے کس بام سے آتی

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے Read More »

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاںکون آ کر ناپتا احساس کی پہنائیاں اب کسی موسم کی بے رحمی کا کوئی غم نہیںہم نے آنکھوں میں سجائی ہیں تری انگڑائیاں آپ کیا آئے بہاروں کے دریچے کھل گئےخوشبوؤں میں بس گئیں ترسی ہوئی تنہائیاں چاند بن کر کون اترا ہے قبائے جسم میںجاگ

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں Read More »

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تکوسعت مری دیکھو تو ہے دیوار ابد تک ماحول میں سب گھولتے ہیں اپنی سیاہیرخ ایک ہی تصویر کے ہیں نیک سے بد تک کچھ فاصلے ایسے ہیں جو طے ہو نہیں سکتےجو لوگ کہ بھٹکے ہیں وہ بھٹکیں گے ابد تک کب تک کوئی کرتا پھرے کرنوں

میں شعلۂ اظہار ہوں کوتاہ ہوں قد تک Read More »

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہاس جسم کی خوشبو ہے گلابوں سے زیادہ اک قطرۂ شبنم کو ترستے ہیں گلستاںیہ فصل تو ممسک ہے سرابوں سے زیادہ پڑھنا ہے تو انسان کو پڑھنے کا ہنر سیکھہر چہرے پہ لکھا ہے کتابوں سے زیادہ پہنچا ہوں وہیں پر کہ چلا تھا میں جہاں سےہستی

نشے میں جو ہے کہنہ شرابوں سے زیادہ Read More »