MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مطرب سے نوا روٹھ گئی ہے تو مجھے کیا

مطرب سے نوا روٹھ گئی ہے تو مجھے کیایہ شمع اگر جل کے بجھی ہے تو مجھے کیا میں کوہ و بیاباں کا چہکتا ہؤا پنچھیہر شاخ ِ چمن پھولی پھلی ہے تو مجھے کیا موسم کی حسیں تال پہ ناچیں گی فضائیںیہ بات کسی گل نے کہی ہے تو مجھے کیا خوشبو سے ہے خالی ابھی […]

مطرب سے نوا روٹھ گئی ہے تو مجھے کیا Read More »

خیر اندیش بنے ، حق کی مذمت نہ کرے

خیر اندیش بنے ، حق کی مذمت نہ کرےخون اپنا ہے تو اپنوں سے بغاوت نہ کرے ریشم و اطلس و کم خواب میں پلنے والاہم فقیروں سے الجھنے کی حماقت نہ کرے بے وفائی کا اگر حسن کی کُھل جائے بھرمکوئی بھولے سے بھی اقرارِ محبت نہ کرے ایسے آئین کو ٹھکرا کے چلا جاؤں گابے نواؤں

خیر اندیش بنے ، حق کی مذمت نہ کرے Read More »

ہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہے

ہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہےیہ کرہ ء خاکی ہے کہ آفات کا گھر ہے کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہےآئینہ جسے سمجھے ہو , وہ میرا جِگر ہے میں راہِ زمانہ میں جو برباد ہؤا ہوںیہ آپ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے تقدیس سے خالی ہیں

ہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہے Read More »

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھاکشتی کے ڈوبنے کا بھی منظر عجیب تھا سوچا تھا جیت لوں گا محبت کی قربتیںلیکن کہاں میں اِتنا بڑا خوش نصیب تھا آیا تیری گلی میں تو جنت میں آگیانکلا تو یوں لگا ، کہ جہنم نصیب تھا یہ صرف تیرے سوزِ محبت کا تھا اثرشاعر نہیں تھا کوئی

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا Read More »

میری خاطر اہتمام دار میں دیوانہ ہوں

میری خاطر اہتمام دار میں دیوانہ ہوںبخش دیجے گا مجھے سرکار میں دیوانہ ہوں کوئے جاناں سے مجھے آگے نہ لے جائے جنوںروک لے اے سایہ ء دیوار میں دیوانہ ہوں آپ پتھر پھینکیئے یا سنگ باری کیجئےوحشتیں ہیں رونق بازار میں دیوانہ ہوں چوس لے میرا لہو میری رگوں سے کھینچ لےاے زبان نشتر

میری خاطر اہتمام دار میں دیوانہ ہوں Read More »

ناامیدی نے لہو دل کا بہا رکھا ہے

ناامیدی نے لہو دل کا بہا رکھا ہےاب مرے دامن احساس میں کیا رکھا ہے راہِ پُرنُور کے بھٹکے ہوئے کچھ تاروں نےسارے ماحول کو تاریک بنا رکھا ہے میرے نزدیک قیامت کے سوا کچھ بھی نہیںتونے جو زیست کا مفہوم بتا رکھا ہے تیری معصوم امنگوں کو بڑی مدت سےمیری آنکھوں نے گنہگار بنا

ناامیدی نے لہو دل کا بہا رکھا ہے Read More »

دیکھا نہیں کبھی بھی زعم انا۔کی جانب

دیکھا نہیں کبھی بھی زعم انا۔کی جانبرکھتا ھوں میں نگاھیں باب فنا کی جانب ھوتا ھے شور برپا کیوں دل کی دھڑکنوں میںبڑھتے ھیں ھاتھ جب بھی بند قبا کی جانب آتی ھے یاد ھم کو سرخی شفق کی جاناںاٹھتی ھیں جب نگاھیں دست حنا کی جانب حسرت سے دیکھتے تھے ان کی طرف ملائکجبریل

دیکھا نہیں کبھی بھی زعم انا۔کی جانب Read More »

صداےء درد و الم ھی ابھری وہاں وہاں سے

صداےء درد و الم ھی ابھری وہاں وہاں سےکتاب ھستی کو میں نے کھولا جہاں جہاں سے وہ آدمی کے مقابلے میں ٹھہر نہ پائیںزمیں پہ اتریں بلائیں جتنی بھی آسماں سے جب اس کو ڈھونڈا نہیں ملا تو سمجھ میں آیاوہ ماورا ھے مرے یقیں سے مرے گماں سے میں رفتہ رفتہ تری کہانی

صداےء درد و الم ھی ابھری وہاں وہاں سے Read More »

میں سراپا بندگی ھوں میں سفیر روشنی

میں سراپا بندگی ھوں میں سفیر روشنیاس لئے تو مجھ پہ برھم ھو رھی ھے تیرگی یہ کمال بے خودی ھے یا سماعت کی طلبجلترنگ بجنے لگے جب آئی ھونٹوں پر ھنسی میں سکوت شب میں کب سے سن رھا ھوں یہ صداآبھی جا اے زندگی اے زندگی اے زندگی اک غبار بے حسی پھیلا

میں سراپا بندگی ھوں میں سفیر روشنی Read More »

یہ ردائے خوف اتار دے تو محبتوں کا نقاب دوں

یہ ردائے خوف اتار دے تو محبتوں کا نقاب دوں تُو قدم قدم مِرے ساتھ چل، میں نظر نظر کا جواب دوں تجھے شک ہے میرے خیال پر کہ بھٹک رہا ہے اِدھر اُدھر تو کبھی اتر مِرے دل میں تُو تجھے دھڑکنوں کا حساب دوں بڑے بد نصیب سے لوگ ہیں تری قدر جو

یہ ردائے خوف اتار دے تو محبتوں کا نقاب دوں Read More »