MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے

فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سےلہو کے بحر میں بھی کچھ صدف ہیں نیلے سے ابھی تو قافلۂ باد سبز راہ میں ہےاسی لیے تو ہیں اشجار دشت پیلے سے جو میرے ساتھ ہے صدیوں سے مثل عکس بہارخبر نہیں کہ ہے وہ شخص کس قبیلے سے پڑا ہے کب سے سیہ […]

فلک نے بھیجے ہیں کیا جانے کس وسیلے سے Read More »

تہہ میں ہر پیکر کی اک پیکر ابھرتا ہے ترا

تہہ میں ہر پیکر کی اک پیکر ابھرتا ہے تراکون اظہار مسلسل روک سکتا ہے ترا قتل ہو جاتا ہے جب سورج دلوں کے دشت میںگہری ظلمت میں معاً شعلہ لپکتا ہے ترا نقش ابھرتے ہیں تری خوشبو کے سطح خاک پربے صدا گنبد میں بھی طائر چہکتا ہے ترا ساغر گل سے ہزاروں رنگ

تہہ میں ہر پیکر کی اک پیکر ابھرتا ہے ترا Read More »

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میںسمندر ہوں سمندر کو مقابل چاہتا ہوں میں وہ اک لمحہ جو تیرے قرب کی خوشبو سے ہے روشناب اس لمحے کو پابند سلاسل چاہتا ہوں میں وہ چنگاری جو ہے مشاق فن شعلہ سازی میںاسے روشن تہہ خاکستر دل چاہتا ہوں میں بہت

یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے کہ ساحل چاہتا ہوں میں Read More »

ہر رگ خار کی تحویل میں خوں ہے میرا

ہر رگ خار کی تحویل میں خوں ہے میرابے کراں دشت دبستان جنوں ہے میرا نقش موہوم ہے سب وسعت ارض و افلاکمیرے شہپر کے تلے صید زبوں ہے میرا شاخیں تلوار کی صورت ہیں گل و برگ ہیں سنگدل کا یہ نخل گرفتار فسوں ہے میرا زخم کیا ہے کسی شمشیر نگہ کا اعجازاشک

ہر رگ خار کی تحویل میں خوں ہے میرا Read More »

مجھے میرے گھنے سائے میں تنہا چھوڑ جاتا ہے

مجھے کچھ اور بھی تپتا سلگتا چھوڑ جاتا ہےسحاب اکثر میرے سینے پہ دریا چھوڑ جاتا ہے وہی اک رائیگاں لمحہ کہ میں جس کا شناور ہوںنگاہوں میں مری شہر تماشا چھوڑ جاتا ہے گزرتا ہے جس آئینے سے بھی موسم شراروں کاچمن کو ساتھ لے جاتا ہے صحرا چھوڑ جاتا ہے نواح دشت میں

مجھے میرے گھنے سائے میں تنہا چھوڑ جاتا ہے Read More »

میں ڈوبتے سورج کے ہم راہ نہ مر جاؤں

ساحل پہ سمندر کے کچھ دیر ٹھہر جاؤںممکن ہے کہ موجوں کے ماتھے پہ ابھر جاؤں تپتے ہوئے لمحوں کو سیراب تو کر جاؤںاک موج صدا بن کر صحرا میں بکھر جاؤں ہر سنگ ہے اک شیشہ ہر شیشہ ہے اک پتھراے شہر طلسم آخر ٹھہروں کہ گزر جاؤں لاؤ نہ اجالوں کو اس شہر

میں ڈوبتے سورج کے ہم راہ نہ مر جاؤں Read More »

قدم قدم پہ ہے عشرتؔ دیار شیشہ گراں

اٹھائے دوش پہ تاریخ حادثات جہاںگزر رہا ہے دیار حیات سے انساں بچھا رہا ہے فضاؤں میں دام کاہکشاںترے گداز بدن کا تبسم پنہاں لبوں پہ لاکھ لگائے کوئی سکوت کی مہرمگر خموشی نہ ہوگی جراحتوں کی زباں بھڑک اٹھے نہ کہیں پھر چراغ زخم کی لوسنبھل سنبھل کے سناؤ حدیث شہر بتاں دھواں دھواں

قدم قدم پہ ہے عشرتؔ دیار شیشہ گراں Read More »

کہو پڑے رہیں چپ چاپ خواب اپنی جگہ

زمیں غبار سمندر سحاب اپنی جگہمگر میں اور مرا اضطراب اپنی جگہ ہوا کی زد میں ہے ہر چیز خار و خس کی طرحکہو پڑے رہیں چپ چاپ خواب اپنی جگہ اگرچہ بکھری ہے راکھ اس کی میرے چاروں طرفوہ لمحہ اب بھی ہے اپنا جواب اپنی جگہ مرے عقب میں ہے آوازۂ نمو کی

کہو پڑے رہیں چپ چاپ خواب اپنی جگہ Read More »