MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سنو ہم عہد کرتے ہیں

سنو ہم عہد کرتے ہیں خدا سے تم کو مانگا ہے سدا تم کو ہی چاہیں گے لُٹا کر دو جہاں اپنے تمھیں اپنا بنائیں گے یہ ہم نے سوچ رکھا ہے بھلے دشمن زمانہ ہو جو الفت آزمانا ہو تو بس اک بار کہہ دینا ہتھیلی پر لیے جیون یہ ہم اقرار کر لیں […]

سنو ہم عہد کرتے ہیں Read More »

پھول سے ہاتھ ہیں، التجا ہے مگر ، مر نہ جائیں کہیں تتلیاں چھوڑیے

پھول سے ہاتھ ہیں، التجا ہے مگر ، مر نہ جائیں کہیں تتلیاں چھوڑیے جسم نازک ہیں ان کے بکھر جائیں گے، بے زبانوں سے یوں مستیاں چھوڑیے میں محبت میں بِکتا رہا ہوں سدا ، کوئی میری غرض تھی نہ مجبوریاں آپ کے ہر اشارے پہ ناچوں گا میں، آپ ایسی غلط فہمیاں چھوڑیے

پھول سے ہاتھ ہیں، التجا ہے مگر ، مر نہ جائیں کہیں تتلیاں چھوڑیے Read More »

چاہا نہ ترا ساتھ قدم بھر سے زیادہ

چاہا نہ ترا ساتھ قدم بھر سے زیادہ پھیلاۓ نہیں پاؤں بھی چادر سے زیادہ ہم لوگ محبت میں قناعت سے رہے ہیں مانگا ہی نہیں تجھ کو مقدر سے زیادہ دوباره جلی شمع تو موجود تھے سارے ہے کون وفا دار بہتّر سے زیادہ ہم کو یہ سبق تین سو تیرہ سے ملا ہے

چاہا نہ ترا ساتھ قدم بھر سے زیادہ Read More »

بن نہ بن میری جان ،جھوٹ نہ بول

بن نہ بن میری جان ،جھوٹ نہ بول بس مجھے اپنا مان ، جھوٹ نہ بول کیا کہا ، مجھ کو چاہتا ہے تُو ہو رہی ہے اذان ، جھوٹ نہ بول خوش ہوں اُس کے بغیر ، میں نے کہا مجھ سے بولی زبان ، جھوٹ نہ بول یہ محبت نہیں ہے ، دھوکا

بن نہ بن میری جان ،جھوٹ نہ بول Read More »

فلک پہ اُڑتے پرندے ، ہَوا کی نظمیں ہیں

فلک پہ اُڑتے پرندے ، ہَوا کی نظمیں ہیں زمیں پہ پھول، تِرے نقشِ پا کی نظمیں ہیں ہر ایک آنکھ اِنہیں حفظ کرنا چاہتی ہے حسین لوگ یقیناً خدا کی نظمیں ہیں نظر میں نور نہیں ہے نجف کے نوحے ہیں اور اشک ، اشک نہیں کربلا کی نظمیں ہیں اِنہیں تُو پیار سے

فلک پہ اُڑتے پرندے ، ہَوا کی نظمیں ہیں Read More »

آ مِل کر دونوں خواب بُنیں

نظم آ مِل کر دونوں خواب بُنیں سب رنگ ملا کر چاہت کے احساس کی آنچ پہ گرم کریں خوابوں کی مٹی نرم کریں پھر پلکوں سے مہتاب چُننیں آمِل کر دونوں خواب بُنیں دے ریشم ، شیریں لفظوں کا دے لہجہ ، دریاؤں جیسا دے کومَلتا ، اِن ہاتھوں کی دے رِم جِھم بارش

آ مِل کر دونوں خواب بُنیں Read More »

ترا لہجہ

تِرا لہجہ” تِرا لہجہ نہایت خوب صورت ہے تِرے الفاظ میں انمول اپنا پن جھلکتا ہے تِری آواز میں غزلوں کا دھیما پَن مہکتا ہے کوئی سُر ہے،کوئی لے ہے، تیری سانسوں میں سرگم ہے پِکاسو ، شکسپیئر اور تو غالب کا سنگم ہے تِرے نازک اشاروں پر مِرا مَن مور بن کر رقص کرتا

ترا لہجہ Read More »

وہ جو اِک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

وہ جو اِک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے نرم لہجہ کبھی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ چاہت میں وہ سینے سے لگے اِس لپٹنے کا سبب ڈر بھی تو ہو سکتا ہے دُور سے پھول جسے آپ نے بھجوائے ہیں آپ سے مِل کے وہ بہتر بھی

وہ جو اِک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے Read More »

وُہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا اُسے کس نے اپنا بنا لیا

وُہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا اُسے کس نے اپنا بنا لیا مِری آنکھ کس نےاُجاڑ دی ، مِرا خواب کس نےچُرا لیا تجھے کیا بتائیں کہ دِلنشیں، تِرے عشق میں تِری یاد میں کبھی گفتگو رہی پھول سے، کبھی چاند چھت پہ بُلا لیا مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر تِرا حال تھا ،

وُہ ثمر تھا میری دُعاؤں کا اُسے کس نے اپنا بنا لیا Read More »

کچھ کم نگاہ لوگ مِرے آس پاس ہیں

کچھ کم نگاہ لوگ مِرے آس پاس ہیں یعنی تباہ لوگ مِرے آس پاس ہیں وہ مل گیا ہے جس کے لیے تھا میں در بدراب خواہ مخواہ لوگ مِرے آس پاس ہیں جی چاہتا ہے تجھ سے اکیلے میں بات ہو اور بے پناہ لوگ مِرے آس پاس ہیں محسوس کر رہا ہوں میں

کچھ کم نگاہ لوگ مِرے آس پاس ہیں Read More »