MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دسمبر کے کُہرے کی چادر لپیٹے

نظم دسمبر کے کُہرے کی چادر لپیٹے اداسی بھرے دن میں سمٹا ہُوا میں وفا کی جواں دھوپ کی خواہشوں میں امیدوں کے اک سبز سے لان میں ہوں جہاں ایک ٹیبل سجا حسرتوں کا کئی پھول بکھرے ہوئے چاہتوں کے کہیں دور سے ہلکی ہلکی سی آواز آتی ہے جگجیت و مہدی حسن کی […]

دسمبر کے کُہرے کی چادر لپیٹے Read More »

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تِری کہانی ہے یانہیں ہے

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تِری کہانی ہے یانہیں ہے اگر نہیں ہے تو پھر بتاؤ یہ رائیگانی ہے یا نہیں ہے کسی کےشجرے میں کیا لکھا ہےمجھے غَرَض ہی نہیں ہے اِس سے زباں کُھلے گی تو علم ہو گا وہ خاندانی ہے یا نہیں ہے اگر یہ طے ہے کہ آسماں پر

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تِری کہانی ہے یانہیں ہے Read More »

ہر چہرے میں اُس کا چہرہ دیکھے گا

ہر چہرے میں اُس کا چہرہ دیکھے گا دِل ، جیسا سوچے گا ویسا دیکھے گا آنکھوں والو سوچو، سوچ کے بتلاؤ اندھا خواب میں دیکھےتو کیادیکھےگا حاسد شخص کی ایک نشانی یہ بھی ہے جل جائے گا جس کو ہنستا دیکھے گا وہ میری تعریف کرے تو حیرت کیوں اچھا تو ہر اک کو

ہر چہرے میں اُس کا چہرہ دیکھے گا Read More »

تُو ہَوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دِیا جلانے کی ضد نہ کر

تُو ہَوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دِیا جلانے کی ضد نہ کریہ اُداس لوگوں کا شہر ہے یہاں مسکرانے کی ضد نہ کر میں ہوں دوستوں کا ڈسا ہُوا ، مِرا غم ہے حد سے بڑھا ہُوامیں شکستہ گھر کی مثال ہوں ، مِرے پاس آنے کی ضد نہ کر میں تِری غزل تو

تُو ہَوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دِیا جلانے کی ضد نہ کر Read More »

دِل سے کہہ دو کہ ڈر نہ جائے کہیں

دِل سے کہہ دو کہ ڈر نہ جائے کہیں خوشبوؤں سا بکھر نہ جائے کہیں دیکھ ! میں تجھ میں جی رہا ہوں بہت دیکھ ! تُو مجھ میں مر نہ جائے کہیں مُشکلوں سے جسے بگاڑا ہے خوف ہے وُہ سُدھر نہ جائے کہیں تونے دِل کو بَھرا ہے زخموں سے دل ہی اب

دِل سے کہہ دو کہ ڈر نہ جائے کہیں Read More »

اپنا دُکھ جیسے دَبایا ہے ، مزا آیا ہے

اپنا دُکھ جیسے دَبایا ہے ، مزا آیا ہے تیر پلکوں سے اُٹھایا ہے ، مزا آیا ہے کامیابی کی خوشی اور نشہ اپنی جگہ یہ جو دشمن کو جلایا ہے ، مزا آیا ہے اُس کو تکلیف میں رکھنا مِرا مقصد ہی نہیں صرف احساس دلایا ہے ، مزا آیا ہے دل تو دل

اپنا دُکھ جیسے دَبایا ہے ، مزا آیا ہے Read More »

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھی وہ اک چراغ کدہ جس میں کچھ نہیں تھا مراجو جل رہی تھی وہ قندیل بھی پرائی تھی نہ جانے کتنے پرندوں نے اس میں شرکت کیکل ایک پیڑ کی تقریب رو نمائی تھی ہواؤ آؤ مرے گاؤں

عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھی Read More »

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتاہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتا محاذ عشق سے کب کون بچ کے نکلا ہےتو بچ گیا ہے تو خیرات کیوں نہیں کرتا وہ جس کی چھاؤں میں پچیس سال گزرے ہیںوہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا میں جس کے ساتھ کئی دن گزار آیا

بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتا Read More »

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیںدل پہ آنکھیں رکھیں تیری سانسیں دیکھیں سرخ لبوں سے سبز دعائیں پھوٹی ہیںپیلے پھولوں تم کو نیلی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے وہ کب لوٹے گاآؤ کھیت کی سیر کو نکلیں کونجیں دیکھیں تھوڑی دیر میں جنگل ہم کو عاق کرے گابرگد دیکھیں یا برگد کی

چہرہ دیکھیں تیرے ہونٹ اور پلکیں دیکھیں Read More »

اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں

اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوںخود ہی آنگن خود ہی شجر بھی ہوں اپنی مستی میں بہتا دریا ہوںمیں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں آسماں اور زمیں کی وسعت دیکھمیں ادھر بھی ہوں اور ادھر بھی ہوں خود ہی میں خود کو لکھ رہا ہوں خطاور میں اپنا نامہ بر بھی ہوں

اک حویلی ہوں اس کا در بھی ہوں Read More »