MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھےورنہ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مرے تعاقب میںایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے میری آنکھوں پہ دو مقدس ہاتھیہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاںسانس لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھاپیڑ سے خامشی ملی ہے مجھے میں […]

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے Read More »

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیںجو دیکھتا ہوں میں وہ بھولتا نہیں کسی منڈیر پر کوئی دیا جلاپھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھےمیں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں تری طرف چلے تو عمر کٹ گئییہ اور بات راستہ کٹا نہیں اس اژدھے کی

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں Read More »

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھاکمرا رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھےمیں جنگل میں پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتےاور پھر میں بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دندریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا

جب اس کی تصویر بنایا کرتا تھا Read More »

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہےکہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے کس خوشی میں لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم اس کے ہو کر بھی اس کو چھونے سے ڈر رہے ہیںعجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں میں بٹ رہی ہے میں اس کو

کسے خبر ہے کہ عمر بس اس پہ غور کرنے میں کٹ رہی ہے Read More »

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہےتیرے جانے کا غم کیا گیا ہے تا قیامت ہرے بھرے رہیں گےان درختوں پہ دم کیا گیا ہے اس لیے روشنی میں ٹھنڈک ہےکچھ چراغوں کو نم کیا گیا ہے کیا یہ کم ہے کہ آخری بوسہاس جبیں پر رقم کیا گیا ہے پانیوں کو بھی خواب آنے

کچھ ضرورت سے کم کیا گیا ہے Read More »

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہےکہ اس سے ہم نے تجھے دیکھنے کی کرنی ہے کسی درخت کی حدت میں دن گزارنا ہےکسی چراغ کی چھاؤں میں رات کرنی ہے وہ پھول اور کسی شاخ پر نہیں کھلناوہ زلف صرف مرے ہاتھ سے سنورنی ہے تمام ناخدا ساحل سے دور ہو جائیںسمندروں

نہ نیند اور نہ خوابوں سے آنکھ بھرنی ہے Read More »

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہےہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہے اے قیس تیرے دشت کو اتنی دعائیں دیںکچھ بھی نہیں ہے میری دعاؤں میں ریت ہے صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کوہاتھوں میں پھول ہیں مرے پاؤں میں ریت ہے مدت سے میری آنکھ میں

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے Read More »

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہےمیں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گامری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھاتری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے بدن

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے Read More »

ہادی مچھلی شہری غزل قافلے کو منزل تک گامزن کرنے والا شاعر

ہادی مچھلی شہری کی پیدائش: 1890ء – وفات: 25 اکتوبر 1961ء) ہادی مچھلی شہری 1890 کو ضلع جونپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید عبدالرزاق غالب کے شاگروں میں سے تھے۔ اپنے والد کے زیر اثر وہ بھی بہت چھوٹی سی عمر سے شعر کہنے لگے تھے۔ جلیل مانک پوری سے مشورۂ سخن کے

ہادی مچھلی شہری غزل قافلے کو منزل تک گامزن کرنے والا شاعر Read More »

علی سردار جعفری ایک شاعر معاشرے کا معمار

علی سردار جعفری ہمہ جہت شخصیت کے مالک سردار جعفری نے نظموں اور غزلوں کے ذریعے جو اعلیٰ ادبی معیار پیش کیے وہ ان کو صف اول کے شاعروں میں شامل کرتی ہے، آنے والے زمانوں میں ان کی تخلیقات ہماری راہنمائی کرتی رہیں گی۔ہمہ جہت شخصیت کے مالک سردار جعفری نے نظموں اور غزلوں

علی سردار جعفری ایک شاعر معاشرے کا معمار Read More »