MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یوں آج اپنے آپ سے الجھا ہوا ہوں میں

یوں آج اپنے آپ سے الجھا ہوا ہوں میںجیسے کہ خود نہیں ہوں کوئی دوسرا ہوں میں ذہن اور دل میں چھیڑ گیا کوئی سرد جنگاک سیل کشمکش کے مقابل کھڑا ہوں میں آ جائے سامنے کوئی معیار تو ترایہ سوچ کر نگاہ سے اکثر گرا ہوں میں خود کو تو کھو کے تجھ کو […]

یوں آج اپنے آپ سے الجھا ہوا ہوں میں Read More »

تیرے صدقے بھلا ناچیز یہ وارے کیا کیا؟

تیرے صدقے بھلا ناچیز یہ وارے کیا کیا؟ تو نے دھرتی پہ اتارے ہیں ستارے کیا کیا اس شرافت کو لگے آگ سمجھ ہی نہ سکے ورنہ ملتے رہے ہم کو بھی اشارے کیا کیا تجھ سے وابستہ محبت کو قرار آنے لگا ہم نے دیکھے تری قربت میں خسارے کیا کیا ایک لمحے کو

تیرے صدقے بھلا ناچیز یہ وارے کیا کیا؟ Read More »

راہوں کی سختیوں سے شناسائی بھی نہ تھی

راہوں کی سختیوں سے شناسائی بھی نہ تھی اس پر ستم کہ مجھ میں توانائی بھی نہ تھی کس فرقے میں شمار مری ذات ہو یہاں ظالم اگر نہ تھی تو تماشائی بھی نہ تھی آواز آ رہی تھی جو دل کے مقام سے ماتم اگر نہیں تو یہ شہنائی بھی نہ تھی کیسے نہ

راہوں کی سختیوں سے شناسائی بھی نہ تھی Read More »

گپ کی افراط کا ڈر دونوں طرف ہے

گپ کی افراط کا ڈر دونوں طرف ہے بات بے بات کا ڈر دونوں طرف ہے ! ہے یہ اک لمحہء مخصوص کی برکت فرط جذبات کا ڈر دونوں طرف ہے گو کہ رکھتے ہیں ستم میں ید طولی کچھ مراعات کا ڈر دونوں طرف ہے جس سے ہر راہ ہو مسدود ملن کی اس

گپ کی افراط کا ڈر دونوں طرف ہے Read More »

تم آئے ، سلیقے کہاں آتے ہوں گے؟

تم آئے ، سلیقے کہاں آتے ہوں گے؟ گھڑی دو کو پیرِ مغاں آتے ہوں گے سبھی کو جو قائل کیے بیٹھتے ہیں انھیں صد طریقِ بیاں آتے ہوں گے اب اتنی تو آتی ہے مردم شناسی وہ بہرِ شماتت یہاں آتے ہوں گے غموں کو ہے اک میرا کندھا میسر کوئی دم کو بہرِ

تم آئے ، سلیقے کہاں آتے ہوں گے؟ Read More »

نظر اٹھا کے دیکھیے ، جناب ! ایسا کچھ نہیں

نظر اٹھا کے دیکھیے ، جناب ! ایسا کچھ نہیں حضور پیش آپ کے حجاب ایسا کچھ نہیں ادھورے سے سوال سب کے "کچھ تو ہے جی کچھ تو ہے” اور آپ کا مکمل اک جواب "ایسا” کچھ نہیں ہمیشہ اپنے حق میں ہم بس اتنا بول پائے ہیں حضور ایسا کچھ نہیں ، جناب

نظر اٹھا کے دیکھیے ، جناب ! ایسا کچھ نہیں Read More »

طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے

طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے تجھ کو اچھا نہیں سمجھیں گے زمانے والے گل فروشا ! بڑے دن بعد دی آواز ہمیں لے کے آئے ہو وہی گل ؟ وہ پرانے والے؟ ہنستے جاتے ہو معافی کی طلب کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے ؟ تم کہاں سے لیے

طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے Read More »

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر اک طرف ہاتھ پہ روٹی کو بڑھانے کا ہنر کبھی لہجے پہ خفا تو کبھی کردار پہ شک تم نے سیکھا ہی نہیں عشق کمانے کا ہنر تم نے پہنا ہی نہیں میرا پسندیدہ لباس تم کو آیا ہی نہیں پاس بلانے کا ہنر اس نے

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر Read More »

سب جذبے و افعال ہیں املاکِ محبت

سب جذبے و افعال ہیں املاکِ محبت یہ زہرِ جدائی بھی ہے تریاقِ محبت یہ معجزے ہوتے ہیں سرِ چاکِ محبت کمزور سے اجسام میں بےباکِ محبت راس آتے نہیں دکھتی ہیں شہرت کی فضائیں گمنام ہی اچھے تھے ، تہہِ خاکِ محبت کچھ ننگ ہیں جو باعثِ تعزیر بنیں گے کافی نہ رہی گر

سب جذبے و افعال ہیں املاکِ محبت Read More »

نے حرفِ دلاسہ نہ کوئی جھوٹی تسلی

نے حرفِ دلاسہ نہ کوئی جھوٹی تسلی اتنی بھی مِری جاں ! بھلا کیا راست پسندی کچھ روز سے بےقابو ہے جذبات کا انبوہ دل بستی میں جو میلہ لگا ، اس نے ہَوا دی ہونے لگے بوسیدہ وفاؤں کے معانی تو خوگرِ تجدید نے عینک ہی بدل لی اس عاشقِ زیرک نے فقط داؤ

نے حرفِ دلاسہ نہ کوئی جھوٹی تسلی Read More »