MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آئی لو یو . ڈیڈی مختصر افسانہ

آئی لو یو . ڈیڈی .تحریر : سید ایاز مفتی  برس ہا برس کی محنت ، عرق ریزی اور رتجگوں کے بعد پرویز نے کاروباری دنیا میں ایک مثالی مقام حاسل کیا تھا . آج سوسائٹی میں مالی لحاظ سے اسکو بڑا محترماور معتبر تصور کیا جاتا تھا . اسکو ایک بزنس آئیکون کی حیثیت […]

آئی لو یو . ڈیڈی مختصر افسانہ Read More »

جلدی افسانہ

مختصر افسانےجلدی تحریر : سید ایاز مفتی بہت بے چینی کے عالم میں اپنے دوست کے فون کا انتظار کررہا تھا . جیسے ہی رنگ بجی میں نے رنگ کو پوری طرح بجنے سے پہلے ہی اٹھالیا . اور فوراً بولا ہاں سرمد . جی ہاں دوسری طرف سرمد ہی تھا . کہنے لگایارآج ہی

جلدی افسانہ Read More »

نکل سکتی تھی صورت کوئی غم کی

نکل سکتی تھی صورت کوئی غم کیمگر کوشش ہی ہم نے کم سے کم کی طبیعت میں تھی درویشی سو ہم نےکسی کے سامنے گردن نہ خم کی بہت سے نامساعد دور آئےمگر قائم رکھی حرمت قلم کی اُسے ہم اپنی جاں کے مول لیتےمگر اُس شخص نے قیمت نہ کم کی ہمارا اپنا دامن

نکل سکتی تھی صورت کوئی غم کی Read More »

طے کیا اس طرح سفر تنہا

طے کیا اس طرح سفر تنہاایک ہم ایک رہ گزر تنہا کون ہوتا رفیق تیرہ شبیدل جلایا ہے تا سحر تنہا خیریت پوچھنے کو آئی ہےزندگی مجھ کو دیکھ کر تنہا آفت جاں ہے وضع ہم سفریوقت کی راہ سے گزر تنہا دھڑکنوں کا بھی ہے عجب اندازدل کی وادی ہے کس قدر تنہا نہ

طے کیا اس طرح سفر تنہا Read More »

دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگ

دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگکتنے خوابوں کی قسم کھائے ہوئے ہیں ہم لوگ ایک عالم کے حریف ایک زمانے کے نقیبجیسے تاریخ کے دہرائے ہوئے ہیں ہم لوگ ایک مدت ہوئی ہم ڈھونڈھ رہے ہیں خود کواپنی آواز کے بھٹکائے ہوئے ہیں ہم لوگ جس کے شعلوں سے نمو پائیں گے کچھ

دل آزردہ کو بہلائے ہوئے ہیں ہم لوگ Read More »

خوابوں کے ساتھ ذہن کی انگڑائیاں بھی ہیں

خوابوں کے ساتھ ذہن کی انگڑائیاں بھی ہیںاک روشنی بھی ہے کئی پرچھائیاں بھی ہیں یہ کائنات خود بھی ہے اک پیکر جمیلاور کچھ ترے جمال کی رعنائیاں بھی ہیں ڈوبا ہوا ہوں قلزم آلام میں مگرزیر قدم حیات کی پرچھائیاں بھی ہیں جادو جگاتی رات کے سایوں کے آس پاسلرزاں تمہاری یاد کی پہنائیاں

خوابوں کے ساتھ ذہن کی انگڑائیاں بھی ہیں Read More »

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہےزہر غم بادہ چکاں ہو تو غزل ہوتی ہے فکر تپ تپ کے نکھرتی رہے کندن کی طرحآگ سینے کی جواں ہو تو غزل ہوتی ہے دھیمی دھیمی سی نوا سلسلہ جنبان ابدپردۂ جاں میں نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے دھڑکنیں صورت الفاظ بکھرتی جائیںدل معانی

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے Read More »

رہ طلب میں بڑی طرفگی کے ساتھ چلے

رہ طلب میں بڑی طرفگی کے ساتھ چلےکسی کے ساتھ نہ تھے اور سبھی کے ساتھ چلے نہ ہم سفر کوئی پایا نہ راہبر چاہاوہ راہرو ہیں کہ ہم زندگی کے ساتھ چلے فریب خود کو دئے اور خود ہی پچھتائےکسی کا جو نہ ہوا ہم اسی کے ساتھ چلے کہو کہ ہوتی ہے اک

رہ طلب میں بڑی طرفگی کے ساتھ چلے Read More »

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاریخدا جانے یہ جینا ہے کہ جینے کی اداکاری خدا وندا ترے ذوق عطا کو کیا کہے کوئیملی ہے ہم سے خفتہ قسمتوں کو دل کی بیداری ڈراتا کیا دل سرکش کو احساس سزا لیکنلرز جاتا ہے نام عفو سے ناز خطا کاری نظر اٹھی

وہ عالم ہے کہ ہر موج نفس ہے روح پر بھاری Read More »

ٹھہرے گا وہی رن میں جو ہمت کا دھنی ہے

ٹھہرے گا وہی رن میں جو ہمت کا دھنی ہےیہ معرکۂ خود گری و خود شکنی ہے ہو خیر کہ اے عظمت یزداں تری خاطرانسان ازل سے ہدف اہرمنی ہے تیور ہی مرے بھانپ لیے لوگوں نے ورنہدنیا میں بنائے سے کہاں بات بنی ہے پہنچیں گے تری بزم دل آرا میں بھی اک روزتاریک

ٹھہرے گا وہی رن میں جو ہمت کا دھنی ہے Read More »