یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائے
یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائےیا مری خاک خلاؤں میں اڑا دی جائے کیسے آواز حریم رگ جاں تک پہنچےاتنی دوری سے تجھے کیسے صدا دی جائے ہے تو پھر کون ہے اس اوٹ میں دیکھوں تو سہیدرمیاں سے یہ مری ذات ہٹا دی جائے تیرے بس میں ہے تو پھر یا […]
یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائے Read More »