MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائے

یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائےیا مری خاک خلاؤں میں اڑا دی جائے کیسے آواز حریم رگ جاں تک پہنچےاتنی دوری سے تجھے کیسے صدا دی جائے ہے تو پھر کون ہے اس اوٹ میں دیکھوں تو سہیدرمیاں سے یہ مری ذات ہٹا دی جائے تیرے بس میں ہے تو پھر یا […]

یا مہ و سال کی دیوار گرا دی جائے Read More »

میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے

میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہےسچ یہ بھی ہے اس کی مجھے عادت بھی بہت ہے ملتا ہے اگر خواب میں ملتا تو ہے کوئیاس کی یہ عنایت یہ مروت بھی بہت ہے اس نے مجھے سمجھا تھا کبھی پیار کے قابلخوش رہنا ہو تو اتنی مسرت بھی بہت ہے الفت کا نبھانا

میرے لیے وہ شخص مصیبت بھی بہت ہے Read More »

کسی بھی کام کا میرا ہنر نہیں نہ سہی

کسی بھی کام کا میرا ہنر نہیں نہ سہیہوائے دہر موافق اگر نہیں نہ سہی کنواں ہے اور سبھی ناقدان شعر و ادبمرے کلام پہ ان کی نظر نہیں نہ سہی یہ تیری بزم ہے یاں تیرا سکہ چلتا ہےکوئی بھی بات مری معتبر نہیں نہ سہی یہی بہت ہے کہ کچھ لوگ سوچنے تو

کسی بھی کام کا میرا ہنر نہیں نہ سہی Read More »

منہ زور آرزوؤں کی بے مہریاں نہ پوچھ

منہ زور آرزوؤں کی بے مہریاں نہ پوچھبیگانہ ہو رہی ہیں یہ لا کر کہاں نہ پوچھ فہرست محسنوں کی نہایت طویل ہےمجھ سے مری تباہیوں کی داستاں نہ پوچھ مجھ کو پناہ دی نہ ترے غم نے بھی کبھیمیں دے رہا ہوں کتنے غموں کو اماں نہ پوچھ ہر زخم چند زخموں کی کرتا

منہ زور آرزوؤں کی بے مہریاں نہ پوچھ Read More »

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگافیصلہ اپنا ہمیں آپ ہی کرنا ہوگا زخم احساس کبھی چین نہ لینے دے گاسر میدان تمنا ہمیں مرنا ہوگا تجھے چھو کر بھی تجھے پا نہ سکیں گے تو ہمیںصورت درد ترے دل میں اترنا ہوگا جانے لے آئی کہاں تیزئ رفتار ہمیںکہ ٹھہر جائیں تو صدیوں کا ٹھہرنا

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا Read More »

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہےہنگامے اگر تیرے ہیں تنہائی مری ہے اے حسن تو ہر رنگ میں ہے قابل عزتمیں عشق ہوں ہر حال میں رسوائی مری ہے جو سطح پہ ہے تیری رسائی ہے اسی تکفن کار ہوں میں زیست کی گہرائی مری ہے ہستی کے اجالے ہیں مری آنکھ کا پرتوہر

پر ہول خرابوں سے شناسائی مری ہے Read More »

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروںہر ایک دور میں تخلیق ارتعاش کروں میں فاش ہو ہی چکا ہوں تو کیا ضروری ہے؟کہ اپنے ساتھ تجھے بھی جہاں میں فاش کروں سراغ زیست ملے ریزہ ریزہ انساں کوبتان عصر کو کچھ ایسے پاش پاش کروں زمیں نے قرض دیا مجھ کو رزق

تو مل بھی جائے تو پھر بھی تجھے تلاش کروں Read More »

یاد آتے ہو کس سلیقے سے

یاد آتے ہو کس سلیقے سےجیسے بارش ہو وقفے وقفے سے یاد کوئی رہی ہو وابستہجیسے ہر رت کے خاص لمحے سے جیسے یہ بھی ہو حسن کا اندازبات کرنا مگر تقاضے سے موسم گل کو کوئی بتلا دودل بھی کھلتا ہے پھول کھلنے سے رات کا اپنا حسن ہوتا ہےرات کو دیکھ دن کے

یاد آتے ہو کس سلیقے سے Read More »

یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہے

یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہےتمام شہر کے رستوں کو روک رکھا ہے نکل پڑیں نہ کہیں پانے اپنی تعبیریںاسی لیے سبھی خوابوں کو روک رکھا ہے وہ کہہ رہے ہیں کہو دل کی بات بات مگرنہ جانے کیوں کئی باتوں کو روک رکھا ہے دلیلیں دینے کو دے سکتے ہیں ہزار

یہ کس حسین نے لوگوں کو روک رکھا ہے Read More »

یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے

یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہےہر قافلہ سرگرم سفر یوں ہی نہیں ہے ہنگامے بپا کرتی ہے ہر آن تری یادپر شور دل و جاں کا نگر یوں ہی نہیں ہے تاریخ سنا سکتی ہے صدیوں کے سفر کییہ گرد سر راہ گزر یوں ہی نہیں ہے ابھرے گا یقیناً کوئی دم

یہ سلسلۂ شام و سحر یوں ہی نہیں ہے Read More »