MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر

اک طرف چاک پہ کوزے کو گھمانے کا ہنر
اک طرف ہاتھ پہ روٹی کو بڑھانے کا ہنر

کبھی لہجے پہ خفا تو کبھی کردار پہ شک
تم نے سیکھا ہی نہیں عشق کمانے کا ہنر

تم نے پہنا ہی نہیں میرا پسندیدہ لباس
تم کو آیا ہی نہیں پاس بلانے کا ہنر

اس نے تصویر کو صوفے کے مقابل ٹانگا
خوب آتا ہے اسے کمرہ سجانے کا ہنر

میری ماں نے تو کہا تھا کہ یہ کافی ہوگا
تم کو آجائے اگر روٹی بنانے کا ہنر

نوشین فاطمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم