MOJ E SUKHAN

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھ

گزر رہی ہے مگر خاصے اضطراب کے ساتھ
خیال بھی نظر آنے لگے ہیں خواب کے ساتھ

تلاش میں ہوں کسی کھردرے کنارے کی
نباہ اب نہیں ہوتا حباب و آب کے ساتھ

شب فراق ہے سدھارتھؔ کی طرح گم سم
حواس بھی ہوئے رخصت ترے حجاب کے ساتھ

تعلقات کا تنقید سے ہے یارانہ
کسی کا ذکر کرے کون احتساب کے ساتھ

جڑی ہوئی ہے ہر اک شخص کی فضیلؔ یہاں
غرض کسی نہ کسی صاحب نصاب کے ساتھ

فضیل جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم