MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہوغم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہو ایسی مشکل تو نہیں دشت وفا کی تسخیرسر میں سودا بھی تو ہو دل میں ارادہ بھی تو ہو ذہن کا مشورۂ‌ ترک طلب بھی برحقذہن کی بات قبول دل سادہ بھی تو ہو کہیں بادل کہیں […]

مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہو Read More »

متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو

متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہوتضیع‌ عمر کا آخر کوئی جواز تو ہو بہم دگر کوئی شب اس سے لب بہ لب تو چلےہوائے شوق کچھ آلودۂ مجاز تو ہو قدم قدم کوئی سایہ سا متصل تو رہےسراب کا یہ سر سلسلہ دراز تو ہو وہ کم سخن نہ کم آمیز پھر تکلف

متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہو Read More »

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہےکوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہے حوادث سے نبرد آرائیوں کا کس کو یارا تھاجنوں اپنا سلامت جس نے ہر افتاد ٹالی ہے ترے اغماض کی خو سیکھ لی اہل مروت نےکہ محفل درد کی اب صاحب محفل سے خالی ہے حضوری ہو کہ مہجوری محبت

یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہے Read More »

ہے وہی ایک میرے سوا اور میں

ہے وہی ایک میرے سوا اور میںدونوں تنہا ہیں میرا خدا اور میں ہے خلاصہ مری زندگی کا یہیایک ناکام حرف دعا اور میں تیرگی ختم کرنے کی امید پررات بھر ہی جلا اک دیا اور میں کون جیتے گا اس جنگ میں دیکھیےہو گئے ہیں مقابل ہوا اور میں آئی برکھا کی رت میرے

ہے وہی ایک میرے سوا اور میں Read More »

جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں

جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیںقدرداں حسن کے یہ بات بجا کہتے ہیں اس کے چہرے کی ضیا سے ہے چمک سورج کیاس کی بکھری ہوئی زلفوں کو گھٹا کہتے ہیں وہ جو آنکھوں سے پلائے تو چلو پی لیں گےویسے ہم پینے پلانے کو برا کہتے ہیں سرخ ہاتھوں کی حقیقت

جو تجھے پیکر صد ناز و ادا کہتے ہیں Read More »

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوںنہیں کچھ یاد کیا بھولا ہوا ہوں خبر گیری کروں گا کیا کسی کیمیں خود اپنا پتا بھولا ہوا ہوں اگر مانگوں تو شاید پا سکوں کچھمگر حرف دعا بھولا ہوا ہوں خود اپنے شہر ہی میں ہوں مسافرمیں گھر کا راستہ بھولا ہوا ہوں مجھے ہے یاد جو تجھ

کوئی عہد وفا بھولا ہوا ہوں Read More »

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دےپیار کر ٹوٹ کے مجھ سے مجھے پاگل کر دے لوٹ لے میرا سکوں اور مجھے بے کل کر دےیوں سمٹ آ مری بانہوں میں انہیں شل کر دے دیکھ کر پہلی نظر میں جو امڈ آئے تھےپھر سے جذبات میں پیدا وہی ہلچل کر دے بن

مسئلہ آج مرے عشق کا تو حل کر دے Read More »

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھاوہ یوں بدلے گا یہ سوچا نہیں تھا عجب ہے سہہ کے زخم بے وفائییہ دل کہتا ہے وہ ایسا نہیں تھا سبب کوئی تو ہے ان نفرتوں کامیں جھوٹا تھا کہ وہ سچا نہیں تھا نہ جانے کیوں مرے حصے میں آیاوہ دکھ قسمت میں جو لکھا نہیں

محبت کا یہ رخ دیکھا نہیں تھا Read More »

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہےمحبت چاہئے تھی بس محبت چاہئے ہے سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسلذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہئے ہے ترا دیدار ہو آنکھیں کسی بھی سمت دیکھیںسو ہر چہرے میں اب تیری شباہت چاہئے ہے کیا ہے تو نے جب ترک تعلق کا

نہ دولت کی طلب تھی اور نہ دولت چاہئے ہے Read More »

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیںہم اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں قبول ترک تعلق نہیں ہے لیکن ہمتمہارے حکم کی تعمیل کرنا چاہتے ہیں غموں کے فیل نہ ڈھا دیں کہیں یہ کعبۂ دلسو ہم دعائے ابابیل کرنا چاہتے ہیں ہمارے جلنے سے ملتی ہے روشنی تم کوتو روشن اب یہی قندیل

نئے مزاج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں Read More »