MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مری دسترس میں ہے گر قلم مجھے حسن فکر و خیال دے

مری دسترس میں ہے گر قلم مجھے حسن فکر و خیال دےمجھے شہر یار سخن بنا اور عنان شہر کمال دے مری شاخ شعر رہے ہری دے مرے سخن کو صنوبریمری جھیل میں بھی کنول کھلا مری گدڑیوں کو بھی لعل دے تری بخششوں میں ہے سروری مرے عشق کو دے قلندریجو اٹھے تو دست […]

مری دسترس میں ہے گر قلم مجھے حسن فکر و خیال دے Read More »

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہےجو آسمان سے اپنی زمیں بدلتا ہے میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہاچراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے عجیب ہوتا ہے نظارگان شوق کا حالردائے ماہ پہن کر وہ جب نکلتا ہے بروئے چشم ردائے حجاب تان لی جائےوہ زیر سایۂ گل پیرہن

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے Read More »

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھادیکھو مجھے گر تم نے سمندر نہیں دیکھا گزرا ہوا لمحہ تھا کہ بہتا ہوا دریاپھر میری طرف اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اک دشت ملا کوچۂ جاناں سے نکل کرہم نے تو کبھی عشق کو بے گھر نہیں دیکھا تھے سنگ تو بیتاب بہت نقش گری کوہم

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا Read More »

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائےدل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کی طرحمیں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے کھلتے جائیں جو ترے بند قبا زلف کے ساتھرنگ پیراہن شب اور نکھرتا جائے عشق کی نرم نگاہی سے حنا ہوں رخسارحسن وہ

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے Read More »

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا Nahi asan tark ishq karna dil se ghum jana

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانابہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانا خبر کیا تھی ستم کی پردہ داری یوں بھی ہوتی ہےبہت نادم ہوں جب سے مقصد جوش کرم جانا لحاظ وضع داری میں کبھی ممکن نہ ہو شایدتمہارا دو قدم آنا ہمارا دو قدم جانا ہمیں انداز رندانہ

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا Nahi asan tark ishq karna dil se ghum jana Read More »

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانابہت دشوار ہے چڑھتے ہوئے طوفاں کا تھم جانا خبر کیا تھی ستم کی پردہ داری یوں بھی ہوتی ہےبہت نادم ہوں جب سے مقصد جوش کرم جانا لحاظ وضع داری میں کبھی ممکن نہ ہو شایدتمہارا دو قدم آنا ہمارا دو قدم جانا ہمیں انداز رندانہ

نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا Read More »

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کوہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو بنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کوسجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو نظر نظر سے ملاتا ہوں مسکراتا ہوںجنوں کی شان دکھاتا ہوں دل رباؤں کو قدم قدم پہ نئے انقلاب رقصاں ہیںدعائیں دیتے ہیں ہم آپ کی اداؤں کو

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو Read More »

شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو

شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کروپیو تو بزم میں فکر و نظر کی بات کرو فسانۂ خم گیسو میں کیف کچھ بھی نہیںنظام عالم زیر و زبر کی بات کرو چمن میں دام بچھاتا ہے وقت کا صیادگلوں سے حوصلۂ بال و پر کی بات کرو قبائے زہد کی پاکیزگی تو دیکھ

شراب آئے تو کیف و اثر کی بات کرو Read More »

یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورت

یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورتقابل دید ہوئی ہے گل تر کی صورت زلف کی آڑ میں تھی جان نظر کی صورترات گزری تو نظر آئی سحر کی صورت ان کے لب پر ہے تبسم مری آنکھوں میں سرورکیا دکھائی ہے دعاؤں نے اثر کی صورت قافلے والو نئے قافلہ سالار آئےاب

یوں بدلتی ہے کہیں برق و شرر کی صورت Read More »

ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخص

ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخصآنکھوں میں لیے بیٹھا ہے مے خانہ سا اک شخص اور اس کے سوا انجمن ناز میں کیا ہےہے شمع سا اک شخص تو پروانہ سا اک شخص خاموش نگاہوں میں قیامت کا اثر تھاگزرا ہے سناتا ہوا افسانہ سا اک شخص اک حسن مکمل ہے تو

ہر لمحہ عطا کرتا ہے پیمانہ سا اک شخص Read More »