MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہے

کیا اس کا پتہ تم کو ہے کچھ اس کی خبر ہے
آئینہ جسے سمجھے ہو , وہ میرا جِگر ہے

ہر گام پہ محشر کا سماں پیشِ نظر ہے
یہ کرہ ء خاکی ہے کہ آفات کا گھر ہے

تقدیس سے خالی ہیں ترے حسن کے جلوے
اب تیری طرف دیکھنا , توہین ِ نظر ہے

ہنستی ہوئی آنکھوںسے مرے دل کو نہ دیکھو
یہ گوشہ ء فردوس نہیں , سُونا نگر ہے

چلتا ہوں تو چلتی ہے کسی جام کی صورت
یہ گردش ِ دوراں بھی مرے زیرِ اثر ہے

تو نور کا پُتلا ہے , کہ تارا ہے سحر کا
ماتھے کو ترے دیکھ کے شرمندہ قمر ہے

جا دیکھ محبت کے گراں قدر نطارے
اے نگہِ طلب روزنِ دیوار بھی در ہے

میں راہِ زمانہ میں جو برباد ہؤا ہوں
یہ آپ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر ہے

انسان کی حالت کا نہ کر تجزیہ اے دوست
جو عرش پہ اڑتا تھا کبھی خاک بسر ہے

میں خوب ہوں کیا خوب ہوں کچھ میری نہ پوچھو
خلوت سے گریزاں ہوں میں جلوت پہ نظر ہے

صحرا میں بھی تنہائی ہے گلستان بھی ہے ویراں
میں ڈھونڈھ رہا ہوں وہ ادھر ہے یا ادھر ہے

یاحسن کو اپنا لے ، یا لگا عشق کو دل سے
اک چاند کی بستی ہے ، اک کانٹوں کا نگر ہے

ساحل پہم پہنچنا ہے سلامت مجھے اک دن
مفتی مری کشتی کے تعاقب میں بھنور ہے

سید عبدالستار مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم