تھا پس مژگان تر اک حشر برپا اور بھی
تھا پس مژگان تر اک حشر برپا اور بھیمیں اگر یہ جانتا شاید تو روتا اور بھی پاؤں کی زنجیر گرداب بلا ہوتی اگرڈوبتے تو سطح پر اک نقش بنتا اور بھی آندھیوں نے کر دیئے سارے شجر بے برگ و بارورنہ جب پتے کھڑکتے دل لرزتا اور بھی روزن در سے ہوا کی سسکیاں […]
تھا پس مژگان تر اک حشر برپا اور بھی Read More »