MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھی

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھیمیں اگر یہ جانتا شاید تو روتا اور بھی پاؤں کی زنجیر گرداب بلا ہوتی اگرڈوبتے تو سطح پر اک نقش بنتا اور بھی آندھیوں نے کر دیئے سارے شجر بے برگ و بارورنہ جب پتے کھڑکتے دل لرزتا اور بھی روزن در سے ہوا کی سسکیاں […]

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھی Read More »

وہ اولیں درد کی گواہی سجی ہوئی بزم خواب جیسے

وہ اولیں درد کی گواہی سجی ہوئی بزم خواب جیسےوہ چشم سرمہ کلام کرتی وہ سارے چہرے کتاب جیسے وہ آنکھ سایہ فگن ہے دل پر جو بے خودی کا ہے استعارہگھلی ہوئی نیلگوں سمندر میں طلعت ماہتاب جیسے بس ایک دھماکہ کہ رات کی سرحدوں کا کچھ تو سراغ پائیںبس ایک چنگاری چاہتا ہو

وہ اولیں درد کی گواہی سجی ہوئی بزم خواب جیسے Read More »

کیسے کروں میں گردشِ دوراں کی شرحِ حال

کیسے کروں میں گردشِ دوراں کی شرحِ حالبرپا ہے میرے ذہن میں اک محشرِ خیال سوزِ دروں نے کردیا جینا مرا مُحالقلب و جگر کے زخم کا کب ہوگا اِندمال میرا یہی ہے کاتبِ تقدیر سے سوالکیا ہوگی اپنی عظمتِ رفتہ کبھی بحال ہم ہیں شکارگاہِ جہاں میں شکار آجراہِ فرار کوئی نہیں ہے بچھا

کیسے کروں میں گردشِ دوراں کی شرحِ حال Read More »

میں آپ کو دیتا ہوں یہ پیغامِ محبت

میں آپ کو دیتا ہوں یہ پیغامِ محبتآجایئے پینا ہے اگر جامِ محبت نذرانۂ دل یوں نہیں ٹُھکراتے کسی کالیتے نہیں کیوں آپ یہ انعامِ محبت آجائے گی پھر یاد اگر یاد کریں گےکیا بھول گئے آپ مری شامِ محبت ہے کوچۂ جاناں کا سفر باعثِ تسکیںچل کر تو ذرا دیکھئے اک گامِ محبت ناکام

میں آپ کو دیتا ہوں یہ پیغامِ محبت Read More »

نامکمل ہے جو وہ بات مکمل کر لوں

نامکمل ہے جو وہ بات مکمل کر لوںاتنی مہلت تو ملے، نعت مکمل کر لوں بھیج کر آپ(ص) پہ ہر لمحہ دروداور سلاماپنی تقویم کے دن رات مکمل کر لوں پھر دَعا مانگوں گا مَیں حل_مسائل کی بھیپہلے مَیں اپنی عبادات مکمل کر لوں عَین مُمکن ہے غزل بھی کوئی لکھی جائےاولا” نعتیہ اَبیات مکمل

نامکمل ہے جو وہ بات مکمل کر لوں Read More »

کس نگر اپنا ٹھکانہ ہو میاں

کس نگر اپنا ٹھکانہ ہو میاںجانے پھر کب ادھر آنا ہو میاں اپنی رفتار سے چلنا ہے ہمیںجو بھی رفتارزمانہ ہو میاں کیوں زمانے کو برا کہتے ہو؟ تم بھی تو جزوزمانہ ہو میاں! کچھ بتاؤ تو ارادے کیا ہیںآج کس سمت روانہ ہو میاں؟ کھل کے رو لینے کا موقع تو ملےرات ہو، اپنا

کس نگر اپنا ٹھکانہ ہو میاں Read More »

ہمیں لاحق ہے نسلوں سے جو بیماری، نہیں جاتی

ہمیں لاحق ہے نسلوں سے جو بیماری، نہیں جاتیلہُو میں جو رچی ہے خُوئے درباری، نہیں جاتی سَکَت پَیروں میں کب اتنی، وہاں پیدل چلا جاؤںمرے گاؤں کی جانب اب کوئی لاری نہیں جاتی کھلاڑی تو ہمیشہ جیتنے کی دُھن میں رہتا ہےکوئی بازی کبھی دانستہ تو ہاری نہیں جاتی محبت کرنے والوں کی عجب

ہمیں لاحق ہے نسلوں سے جو بیماری، نہیں جاتی Read More »

کب مِلی ہے نظر ہم نہیں جانتے

کب مِلی ہے نظر ہم نہیں جانتےکب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے رات ہے یا سحر ہم نہیں جانتےکیسے ہوگی بسر ہم نہیں جانتے آپ ہیں جان اگر تو جگر ہم بھی ہیںفرق ِ جان و جگر ہم نہیں جانتے پوچھنا ہے تو پھر پوچھیئے برق سےکیوں جلا گھر کا گھر ہم نہیں جانتے

کب مِلی ہے نظر ہم نہیں جانتے Read More »

لفظ تحریر بنتے جاتے ہیں

لفظ تحریر بنتے جاتے ہیںمیری تقدیر بنتے جاتے ہیں بہہ رہے ہیں جو آنکھ سے آنسودل کی تفسیر بنتے جاتے ہیں کتنے سرکش ہیں آپ کے گیسوجیسے زنجیر بنتے جاتے ہیں نیند سی آگئی خیالوں کوخواب تعبیر بنتے جاتے ہیں جو بھی غم ملتے ہیں زمانے سےاپنی جاگیر بنتے جاتے ہیں بول رانجھے کی نَے

لفظ تحریر بنتے جاتے ہیں Read More »

غم سے جو آشنا نہیں ہوتا

غم سے جو آشنا نہیں ہوتاآدمی کام کا نہیں ہوتا آپ ہم گام جب نہیں ہوتاراستا ، راستا نہیں ہوتا ہرکماں تیرزن نہیں ہوتیہر نشانہ خطا نہیں ہوتا یوں تو ہر شے بچھڑ کے رہتی ہےاِک ترا غم جُدا نہیں ہوتا بات کا اِذن مِل تو جاتا ہےبات کا حوصلہ نہیں ہوتا حسن والوں کی

غم سے جو آشنا نہیں ہوتا Read More »