MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق کو معجزہ نما پایا

عشق کو معجزہ نما پایادل کے حجرے میں دلربا پایا دیکھکر چاند جب تجھے دیکھاعکس اس کا ہی با خدا پایا تیرگی ڈھل گئ اجالوں میںحسن کا معجزہ جدا پایا جسم تو سوختہ ہوا دلبروصل کی آنچ پر جلا پایا مرحلے دید کے میسر تھےعشق کو صبر آزما پایا آنکھ میں جیسے آٸنہ ٹھہراجلوہء عشق

عشق کو معجزہ نما پایا Read More »

کشتی چلا رہا ہے تُو جس کی حدود میں

کشتی چلا رہا ہے تُو جس کی حدود میںرکھ لے نہ ایک دن تجھے اپنی حدود میں اپنی نظر کو غیر کی دولت پہ نہ ٹکارکھنا زرا سنبھال کے ایماں وجود میں میلے میں اس جہان کے جو کچھ مجھے ملادولت مگر ملی مجھے اُن کے درود میں سانسوں کی ڈور سے ترے ناموں کو

کشتی چلا رہا ہے تُو جس کی حدود میں Read More »

ایسے جلتا کہاں جلانے سے

ایسے جلتا کہاں جلانے سےآشیاں جل گیا بجھانے سے کون چھو کر گیا خیالوں کوراگ چھڑ گیا گنگنانے سے آتش ے شوق اسقدر بھڑکیبجھ سکی یہ نہ پھر بھجانے سے تیرگی چھا گئ مکانوں میںدیپ ہی بجھا دہیے زمانے نے بادباں اڑ گئے جہازوں کےپھر ہواوں کے ورغلانے سے اب خدا کی ،کہاں ہے تو

ایسے جلتا کہاں جلانے سے Read More »

وحشتِ عشق کو صحرا میں گلابوں سے سجا

وحشتِ عشق کو صحرا میں گلابوں سے سجانیتِ شوق کو خواہش کے سرابوں میں گھما اپنی بیزاری کو اِس شہر کی حد تک ہی تُو رکھاپنی محرومی کے بدلے میں فصیلیں نہ گرا نفرت و بغض کے کانٹوں سے شجر اگتے نہیںکھیتیاں پیار کی اِن مہکی بہاروں میں اگا کون اب وصل کی راحت کا

وحشتِ عشق کو صحرا میں گلابوں سے سجا Read More »

محبت بندگی ٹھہری ،محبت زندگی ٹھہری

محبت بندگی ٹھہری ،محبت زندگی ٹھہریمگر کچھ منچلوں کے ہاں محبت دلگی ٹھہری محبت مرض ِ روح بھی ہے ، محبت شافع ٔدل بھینظام ِ عاشقی میں گل محبت ہر خوشی ٹھہری محبت سابقہ بھی غم ،محبت سالِ نو کا غممحبت شادمانی کم ، ، محبت دل جلی ٹھہری محبت بلدیاتی بھی ہے اور ظالم

محبت بندگی ٹھہری ،محبت زندگی ٹھہری Read More »

دسمبر میں ساون کے پھیرے نہیں اب

دسمبر میں ساون کے پھیرے نہیں ابپون میں مسرت کے ڈیرے نہیں اب ہیں صبحیں اکیلی ،دپہریں ہیں سنساںیوں شاموں کے ساۓ گھنیرے نہیں اب نہ جانے کہاں کھو گئے ہیں اجالےمسسلسل ہیں راتیں سویرے نہیں اب نواۓ صبح نے کہا کیا صبا سےکہ گلشن میں خوشبو کے ڈیرے نہیں اب وہ جن سے محبت

دسمبر میں ساون کے پھیرے نہیں اب Read More »

کبھی ستاروں میں ہو رھا تھا شمارمیرا ،

کبھی ستاروں میں ہو رھا تھا شمارمیرا ،تری گلی میں اڑا ہوا ہے غبار میرا .. عجب سماں تھا ،کہ لمحہ لمحہ دمک رھا تھا ،تمہارے قدموں کی آھٹوں سے دیارمیرا.. وہ میرےگجرےکے پھول سارے بکھرگۓ ہیں ،کہ اب فسانہ سا بن گیا ہے سنگھار میرا .. میں اپنے دل میں دھواں سا محسوس کر

کبھی ستاروں میں ہو رھا تھا شمارمیرا ، Read More »

ہے مرہم کے ہوتے ہوے تن دریدہ

ہے مرہم کے ہوتے ہوے تن دریدہگدائے وفا ہوں سو ہوں سر بریدہ توجہ تری میرے زخموں کا مرہمتری خوش نگاہی مگر ہے چنیدہ ہیں لفظوں کے میرے تو چہرے بھی زخمیمگر تیرا مرہم بھی ہے بر گزیدہ کہ مرہم کے جادو سے مر، ہم نہ جائیںمریض ے وفا ہوں ،ہیں سانسیں بھی چیدہ جو

ہے مرہم کے ہوتے ہوے تن دریدہ Read More »

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھےشکلیں بدل بدل کر ڈرانے لگے مجھے شوقِ جمال طور پہ بیٹھا رہا مراکیونکر تماش بین اٹھانے لگے مجھے شیشے کے ٹوٹنے کی صدا تو نہیں سنیٹوٹا جو دل مرا تو ہنسانے لگے مجھے آنکھوں کو آنسوؤں کی ضرورت نہیں رہیان کے وصال و ہجر بہانے لگے مجھے تحریر میں

چہرے جدید جسم پرانے لگے مجھے Read More »