MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے

محبت کا جسے عرفاں نہیں ہے
وہ سب کچھ ہے مگر انساں نہیں ہے

شعور زندگی پر مٹنے والو
شعور زندگی آساں نہیں ہے

طلب کا ہاتھ بڑھتا جا رہا ہے
خیال وسعت داماں نہیں ہے

خفا بے وجہ ناصح ہو رہے ہو
تمہاری بات کچھ قرآں نہیں ہے

وہ مست حال ہے وصفیؔ کہ اس کو
غم دل ہے غم دوراں نہیں ہے

عبد الرحمان خان بہرائچی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم