MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں خوشبو ہوں ، میں شبنم ہوں گلوں کے ہار جیسی ہوں

میں خوشبو ہوں ، میں شبنم ہوں گلوں کے ہار جیسی ہوںمگر دشمن نگاہوں میں کھٹکتے خار جیسی ہوں رہ ِ حق کی مسافر ہوں ، مری منزل جدا گانہحسینی فوج میں لیکن علی کے وار جیسی ہوں نہ دولت سے ،نہ حشمت سے ، نہ جھکتی ہوں نہ بکتی ہوںمری نسبت ہے بطحا سے […]

میں خوشبو ہوں ، میں شبنم ہوں گلوں کے ہار جیسی ہوں Read More »

دسمبر میں ساون کے پھیرے نہیں اب

دسمبر میں ساون کے پھیرے نہیں ابپون میں مسرت کے ڈیرے نہیں اب ہیں صبحیں اکیلی ،دپہریں ہیں سنساںیوں شاموں کے ساۓ گھنیرے نہیں اب نہ جانے کہاں کھو گئے ہیں اجالےمسسلسل ہیں راتیں سویرے نہیں اب نواۓ صبح نے کہا کیا صبا سےکہ گلشن میں خوشبو کے ڈیرے نہیں اب وہ جن سے محبت

دسمبر میں ساون کے پھیرے نہیں اب Read More »

وہ آ رہا ہے کیف کی جنت لئے ہوئے

وہ آ رہا ہے کیف کی جنت لئے ہوئےہر جنبش نگاہ میں عشرت لئے ہوئے میں ہوں وہ نقش جس کو مٹایا ہے دہر نےدنیا ہے میرے خون کی تہمت لئے ہوئے پھرتی ہے تیری یاد بھی کس کس مزے کے ساتھدر کی رگوں میں نشتر الفت لئے ہوئے آیا ہوں بھیک مانگنے اے ساکنان

وہ آ رہا ہے کیف کی جنت لئے ہوئے Read More »

یہ کیوں کہوں کہ لگی آگ آشیانے کو

یہ کیوں کہوں کہ لگی آگ آشیانے کوکیا ہے برق نے روشن سیاہ خانے کو شراب نغمہ جوانی گھٹائیں موسم گلصدائیں وہ مرے گزرے ہوئے زمانے کو بھرے چمن میں بس اک اس وقف ماتم ہےسمجھ رہی ہے جو کلیوں کے مسکرانے کو یہ روز روز کی مشق سجود ختم تو ہوجبیں میں جذب ہی

یہ کیوں کہوں کہ لگی آگ آشیانے کو Read More »

رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہے

رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہےیعنی سر نیاز جھکانے کی دیر ہے پینے کی دیر ہے نہ پلانے کی دیر ہےساقی کے بس نگاہ اٹھانے کی دیر ہے پروانے آہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشقمحفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے آنکھوں میں دم ہے آخری ہچکی کا

رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہے Read More »

مرے دل کی ہر اک رگ خونچکاں معلوم ہوتی ہے

مرے دل کی ہر اک رگ خونچکاں معلوم ہوتی ہےتمناؤں کی دنیا گلستاں معلوم ہوتی ہے قیامت آ نہ جائے رات کے او جاگنے والےتری ہر سانس لبریز فغاں معلوم ہوتی ہے بھڑک اے شمع کشتہ اور نگاہ جستجو بن جامری تربت کسی کو بے نشاں معلوم ہوتی ہے فغاں ٹوٹے ہوئے دل کی جسے

مرے دل کی ہر اک رگ خونچکاں معلوم ہوتی ہے Read More »

خاک کے کچھ منتشر ذروں کو انساں کر دیا

خاک کے کچھ منتشر ذروں کو انساں کر دیااس نے جس جلوے کو جب چاہا نمایاں کر دیا اس نے ہنس کر خود ہی زلفوں کو پریشاں کر دیامیں یہ سمجھا میں نے قاتل کو پشیماں کر دیا موسم گل میں یہ کیا اے یاد جاناں کر دیامیرے چاک دل کو پھولوں کا گریباں کر

خاک کے کچھ منتشر ذروں کو انساں کر دیا Read More »

دیکھنا یہ کون بے پردہ نمایاں ہو گیا

دیکھنا یہ کون بے پردہ نمایاں ہو گیاایک عالم بے نیاز کفر و ایماں ہو گیا کے اپنے کبر پر زاہد پشیماں ہو گیازہد نے اتنی ترقی کی کہ عصیاں ہو گیا اس کی برگشتہ نصیبی پر کہاں تک روئیےکوئی گلستاں جو بہار آتے ہی ویراں ہو گیا رحم کر اے مژدۂ وہم مسرت رحم

دیکھنا یہ کون بے پردہ نمایاں ہو گیا Read More »

نشاط و کیف کا عالم زمیں سے آسماں تک ہے

نشاط و کیف کا عالم زمیں سے آسماں تک ہےخدا معلوم تیرے حسن کی دنیا کہاں تک ہے محبت کو خیال ماسوا چھو بھی نہیں سکتاہوس کی جادہ پیمائی فقط سود و زیاں تک ہے یہی طوفاں مجھے آسودۂ ساحل بنائے گاتلاطم میری کشتی کا شکست بادباں تک ہے وہ اک جذبہ ہوس کا ہے

نشاط و کیف کا عالم زمیں سے آسماں تک ہے Read More »

فرصت آگہی بھی دی لذت بے خودی بھی دی

فرصت آگہی بھی دی لذت بے خودی بھی دیموت کے ساتھ ساتھ ہی آپ نے زندگی بھی دی سوز دروں عطا کیا جرأت عاشقی بھی دیان کی نگاہ ناز نے غم ہی نہیں خوشی بھی دی اس نے نیاز و ناز کے سایہ ورق الٹ دئےدست خلیل بھی دیا صنعت آذری بھی دی پھر بھی

فرصت آگہی بھی دی لذت بے خودی بھی دی Read More »